کولوراڈو میں موجود بائیو فائر ٹیک نے چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے استعمال کی جانی والی اسمارٹ گن کے لیے آرڈر بک کرنے شروع کردیے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کی رپورٹ کے مطابق یہ اسمارٹ گن ہتھیاروں کی دنیا میں جدید ترین پیش رفت ہے جب یہ اس گن سے صرف تصدیق شدہ صارفین ہی فائر کر سکتے ہیں۔اس طویل، چیلنجنگ سفر جس کا سمارٹ گن نے سامنا کیا لیکن رواں ہفے رائٹرز کے سامنے مظاہرہ کرتے وقت پروٹو ٹائپ دو بار فائر کرنے میں ناکام رہا۔کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو نے کہا کہ سافٹ ویئر اور الیکٹرانکس کا مکمل ٹیسٹ کیا گیا اور ناکامی کا تعلق میکینیکل گن سے تھا جو پری پروڈکشن اور پروٹوٹائپ حصوں سے بنائی گئی تھی۔دوسرے اوقات میں مظاہرے کے دوران ہتھیار کامیابی سے چلایا گیا اور چہرہ شناخت ٹیکنالوجی کام کرتی نظر آئی۔بائیو فائر گن کو فنگر پرنٹ ریڈر کے ذریعے بھی استعمل کیا جا سکتا ہے جو کہ بچوں کی حادثاتی فائرنگ سے بچنے، خودکشیوں کو کم کرنے، پولیس کی بندوق چھین نے یا گم شدہ اور چوری شدہ بندوقوں کو بیکار بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی متعدد اسمارٹ گن خصوصیات میں سے ایک ہے۔بائیو فائر نے کہا کہ 9 ایم ایم ہینڈگن کے پہلے صارفین کے لیے تیار ورژن رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں فراہم کردیا جائے گا، ایک ہزار 499 ڈالر کا اسٹینڈرڈ ماڈل ممکنہ طور پر 2024 کی دوسری سہ ماہی تک دستیاب ہو گا۔2014 میں آرمیٹکس مختصر طور پر فروخت ہونے کے بعد سے یہ امریکا میں تجارتی طور پر دستیاب پہلی اسمارٹ گن بن سکتی ہے۔کم از کم دو دیگر امریکی کمپنیاں لوڈ اسٹار ورکس اور فری اسٹیٹ فائر آرمز بھی مارکیٹ میں اسمارٹ گن لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔کولوراڈو میں بائیو فائر ہیڈکوارٹر میں ایک مظاہرے کے دوران کلوفر نے شروع میں بغیر کسی مسئلے کے رآنڈ فائر کا اور گن نیچے کردی، اس کے بعد ایک اور شخص نے گولی چلانے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہا کی ونکہ گن نے اس کے چہرے کو پہچانا نہیں تھا۔ایک اور پروٹو ٹائپ میں اس ہتھیار نے منصوبہ بندی کے مطابق کام کیا۔بندوق کے بہت سے شوقین افراد اسمارٹ گن ٹیکنالوجی کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے ہیں، خدشہ ہے کہ جب ہنگامی طور پر اپنے دفاع کے لیے ہتھیار کی ضرورت ہو گی تو یہ ٹیکنالوجی ناکام ہو سکتی ہے۔










