’چھ سو برس میں استعفیٰ دینے والے پہلے پوپ‘ بینیڈکٹ 16چل بسے

کیتھولک چرچ کے سابق سربراہ پوپ بینیڈکٹ 16 ویٹیکن میں وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر 95 برس تھی۔ویٹیکن چرچ کے ترجمان میتھیو برونی نے سنیچر کی صبح اپنے بیان میں کہا کہ ’میں افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دے رہا ہوں کہ پوپ ایمریٹس بینیڈکٹ 16 آج صبح ساڑھے نو بجے ویٹی کن میں انتقال کر گئے ہیں۔ اس بارے میں مزید معلومات بعد میں دی جائیں گی۔‘پوپ بینیڈکٹ نے 11 فروریا 2013 کو دنیا کو دنگ کر دیا تھا جب انہوں نے اپنے مخصوص لہجے میں اعلان کیا کہ اب وہ ایک ارب 20 کروڑ کیتھولک چرچ کا نظام چلانے کی طاقت نہیں رکھتے۔یوں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر پوپ بینیڈکٹ کیتھولک چرچ کی 600 سالہ تاریخ میں استعفیٰ دینے والے پہلے پوپ قرار پائے۔ان کے اس ڈرامائی فیصلے نے اس کانفرنس کی راہ ہموار کی جس نے پوپ فرانسس کو ان کا جانشین منتخب کیا۔ اس کے بعد دونوں پوپ ویٹیکن میں ساتھ ساتھ رہتے تھے۔سابق پوپ کارڈینل جوزف ریٹزنگر کبھی بھی پوپ نہیں بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے 78 برس کی عمر میں ارادہ کیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے آبائی علاقے باویریا میں لکھنے پڑھنے میں گزاریں گے۔لیکن انہیں سینٹ جان پال دوم کے نقش قدم پر چلنے اور چرچ چلانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چرچ کے پادریوں کو جنسی سکینڈل کا سامنا تھا۔پوپ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے ان پر ’گیلوٹین‘ ڈال دیا گیا ہو۔‘انہوں نے 2005 میں جرمنی کے شہر کولون میں نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر پوپ کے طور پر اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ایک وسیع میدان میں جمع ہونے والے 10 لاکھ نوجوانوں کو بتایا تھا کہ ’آج دنیا کے وسیع علاقوں میں عجیب سی خدا فراموشی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس کے بغیر بھی سب کچھ ویسا ہی ہوگا۔‘انہوں نے کیتھولک چرچ کو ایک قدامت پسند راہ پر گامزن کیا جو اکثر ترقی پسندوں کو پسند نہیں تھا۔اپنے پیشرو جان پال کی طرح پوپ بینیڈکٹ نے بھی یہودیوں تک رسائی کو اپنے عہد کا خاصہ بنایا۔ پوپ کے طور پر ان کا پہلا سرکاری کام روم کی یہودی برادری کے نام ایک خط تھا اور وہ یہودی عبادت گاہ میں داخل ہونے والے جان پال کے بعد تاریخ کے دوسرے پوپ تھے۔