چھینی کی گونج جو صدیوں سے زندہ ہے ، اخروٹ کی لکڑی پر کندہ کاری ایک بے مثال ورثہ

چھینی کی گونج جو صدیوں سے زندہ ہے ، اخروٹ کی لکڑی پر کندہ کاری ایک بے مثال ورثہ

تاریخ، ثقافت، ہنر اور روزگار کا سنگم، محض ہنر نہیں، کشمیر کی تہذیب، تاریخ، شناخت اور اجتماعی جذبات کا مظہر

سرینگر/یو این ایس// کشمیر کی فضاؤں میں آج بھی اگر کوئی آواز صدیوں سے گونج رہی ہے تو وہ چھینی اور ہتھوڑی کی وہ مدھم مگر باوقار گونج ہے جو کشمیری اخروٹ لکڑی کی دستکاری کی روح سمجھی جاتی ہے۔ یہ محض ایک ہنر نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیب، تاریخ، شناخت اور اجتماعی جذبات کا مظہر ہے۔ کشمیری اخروٹ لکڑی کی کاریگری دنیا کی نایاب ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے حکومتِ ہند کی جانب سے جغرافیائی شناخت بھی حاصل ہے، جو اس بات کا باضابطہ اعتراف ہے کہ یہ فن صرف کشمیر کی سرزمین سے وابستہ ہے۔یو این ایس کے مطابق کشمیر ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں اخروٹ کے قدرتی درخت 5500 سے 7500 فٹ کی بلندی پر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ مقامی زبان میں انہیں’ ڈھون کُل‘ یا اخروٹ کا پیڑ کہا جاتا ہے۔یہ پیڑ، دونو، ’کاغذی ‘ور’ برزول‘ جیسی اقسام نہ صرف اعلیٰ درجے کے پھل دیتی ہیں بلکہ ان کی لکڑی اپنی مضبوطی، باریک ساخت اور قدرتی چمک کے باعث نقش و نگاری کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔ درخت کو کاٹنے سے پہلے کئی دہائیوں تک پروان چڑھنے دیا جاتا ہے اور بعد ازاں لکڑی کو ایک سے چار سال تک سیزننگ کے عمل سے گزارا جاتا ہے تاکہ معیار برقرار رہے۔تاریخی اعتبار سے کشمیر میں لکڑی پر نقش و نگاری کی روایت کم از کم پندرہویں صدی تک جاتی ہے، جب سلطان زین العابدین کے دور میں اس فن کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت شیخ حمزہ مخدومؒ نے بھی اس فن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ 1890 میں شائع ہونے والی گزیٹیئر آف کشمیر میں اس صنعت کا واضح ذکر ملتا ہے۔ آج بھی چرار شریف، نقشبند صاحب ؒکے اصتان عالیہ سمیت کئی قدیم عمارتیں کشمیری لکڑی کاری کے زندہ شاہکار ہیں۔یو این ایس کے مطابق اس فن کے ماہر کاریگروں کو کشمیر میں نقاش کہا جاتا ہے، جو نسل در نسل یہ ہنر سیکھتے اور سکھاتے آ رہے ہیں۔ سرینگر کے علاقے فتح کدل میں آج بھی سینکڑوں کاریگر اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ یہ ہنر صرف فنی مہارت کا نہیں بلکہ صبر، ریاضت اور روحانی وابستگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک پیچیدہ شاہکار کو مکمل کرنے میں بعض اوقات دو دن سے لے کر چھ ماہ تک لگ جاتے ہیں۔کشمیری اخروٹ لکڑی کی کاریگری میں استعمال ہونے والے نقش و نگار فطرت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ چنار کے پتے، انگور کی بیلیں، کنول، گلاب، نرگس اور دیگر پھول، پرندے، جانور، قدرتی مناظر، قرآنی آیات، فارسی و کشمیری اشعار ، سب کچھ لکڑی پر اس مہارت سے تراشا جاتا ہے کہ ہر شاہکار کشمیر کی روح کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تیار شدہ فن پارہ صرف ایک شے نہیں بلکہ ایک کہانی محسوس ہوتا ہے۔یہ فن مختلف فنی مراحل سے گزرتا ہے جن میں ابتدائی خاکہ تیار کرنا، غیر ضروری لکڑی کو تراشنا، بارڈر اور کناروں کو نفاست دینا اور آخر میں صفائی اور پالش شامل ہے۔ کاریگری کے مختلف انداز جیسے کھوکردار، وابرہ ویتھ، جالی دار، پادری اور صدی کام اس فن کو مزید تنوع اور گہرائی بخشتے ہیں۔معاشی اعتبار سے بھی یہ صنعت کشمیر کے لیے نہایت اہم رہی ہے۔ ہزاروں خاندان براہ راست یا بالواسطہ اس پیشے سے وابستہ رہے ہیں۔ اخروٹ لکڑی سے تیار ہونے والی اشیاء میں فرنیچر، زیوارت کے ڈبے، لیمپ، ٹرے، فریم، تحائف اور دیگر آرائشی اشیاء شامل ہیں جو ماضی میں نہ صرف ملک کے مختلف حصوں بلکہ بیرونِ ملک بھی برآمد کی جاتی رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عظیم ورثہ آج زوال کا شکار ہے۔ نوجوان نسل کی عدم دلچسپی، سستی مشینی مصنوعات کا پھیلاؤ، عالمی برانڈز کی جانب سے کشمیری ڈیزائن کی نقل، سرکاری سرپرستی کی کمی اور کاریگروں کو مناسب معاوضہ نہ ملنا اس فن کے لیے سنگین خطرات بن چکے ہیں۔ یہ صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ ایک ثقافتی سانحہ بھی ہے۔کشمیری اخروٹ لکڑی کی کاریگری محض لکڑی کا کام نہیں بلکہ یہ کشمیر کی شناخت، اس کی تہذیب اور اس کے احساسات کی ترجمان ہے۔ ہر نقش میں صدیوں کی تاریخ، نسلوں کی محنت اور کاریگر کے دل کی دھڑکن شامل ہوتی ہے۔ یہ فن دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیر صرف خبروں کی سرخیوں تک محدود نہیں بلکہ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ بھی ہے۔ماہرین اور اہلِ دانش کا ماننا ہے کہ اس ورثے کو محفوظ رکھنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، نجی ادارے اور عوام مل کر اس صنعت کو فروغ دیں، کاریگروں کو سہولیات فراہم کریں اور نئی نسل کو اس فن کی طرف راغب کریں، کیونکہ اگر چھینی کی یہ گونج خاموش ہو گئی تو کشمیر کی ایک صدیوں پرانی روح بھی خاموش ہو جائے گی۔