کہا ، حالیہ سیلاب کے دوران پُل کے بجائے اپروچ راستون کو نقصان پہنچا ہے
جموں// نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کمشنر جموں، چیف اِنجینئر تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) محکمہ زون جموں اور منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی لمیٹیڈ کی رپورٹوں کے مطابق چوتھے توی پُل کی تعمیر کے ذمہ دار عمل آوری ایجنسی کے خلاف کوئی انکوائری کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے یہ معلومات ایوان میں رُکن اسمبلی شیام لال شرما کے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموں میں حالیہ سیلاب کے دوران پُل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ صرف پل کے اپروچ راستوں کو نقصان ہوا تھا۔نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق چوتھے توی پُل ڈبل لین، پری سٹریسڈ پل، 7.5 میٹر کیریج وے کی تعمیر کا کام سال 2010 میں جے کے پی سی سی کو سونپا گیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس منصوبے کی تخمینہ لاگت 93.12 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی جسے اِنتظامی منظوری کے لئے چیف اِنجینئر کو پیش کیا گیا اور بعد میں جے کے پی سی سی نے مذکورہ پُل کی تعمیر کے لئے اِی۔ٹینڈر جاری کیا جو بعد میں حتمی مرحلے تک پہنچا۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ کنٹریکٹ کمیٹی کے فیصلے اور چیئرمین جے کے پی سی سی لمیٹڈ کی منظوری کے بعدسب سے کم بولے دینے والے ایم/ایس ایس پی شنگلا کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو 67.088 کروڑ روپے کی لاگت پر ٹرن کی بنیاد پر کام الاٹ کیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹھیکیدار نے کام شروع کیا اور بروقت پُل مکمل کیا۔ پُل کو سال 2013 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے اِفتتاح کے بعد عوامی آمد و رفت کے لئے کھول دیا گیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ پُل کی تکمیل اور اس کی کمیشننگ کے بعد سال 2014 میں آنے والے شدید سیلاب کے دوران پل کے تمام اجزأ محفوظ رہے اور پل کے کسی حصے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔










