سرینگر میں اب تک کا سب سے کم درجہ حرارت 13 دسمبر 1934 کو دیکھا گیا تھا ۔ محکمہ موسمیات
سرینگر//چلہ کلاں نے پہلے ہی دن 38سالہ ریکارڈ توڑ کر اہلیان وادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ۔ اس بیچ سرینگر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 8اعشاریہ 5ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا ۔ جبکہ محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں تک موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سردی کی شدت میںمزید اضافہ ہوسکتا ہے اور شبانہ پارہ میں بھی گراوٹ آسکتی ہے ۔ ادھر محکمہ نے لوگو ں سے کہا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور گھروں سے باہر نکلنے کے دوران گرم ملبوسات ، دستانے ، مفلر اور ٹوپی ضروری پہنیں کیوں کہ سردی کی وجہ سے سٹروک اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں 40دنوں پر محیط طویل سردی کا دورانیہ چلہ کلاں شروع ہوگیا ہے اور پہلے ہی دن اپنے تیور سخت کرتے ہوئے چلہ کلاں نے 38سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ اس بیچ سرینگر میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.5ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ سرینگر میں اب تک کا سب سے کم درجہ حرارت ہے ۔ شبانہ منفی درجہ حرارت کی وجہ سے جھیل ڈل کی سطح پر موٹی برف کی سیل کے مانند دکھائی دے رہی ہے ۔ اس بیچ سرینگر میں پانی کے سپلائی نل جم جانے کی وجہ سے لوگوں کو بھی شدید پریشانیوں کاسامناکرناپڑا ہے اور صبح سویرے لوگ نلوں کو پگھلانے میں مصروف دکھائی دئے ۔ ادھر سنیچر وار کو سرینگر میں پارہ -8.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، موسم کی سب سے سرد رات اور موسم گرما کے دارالحکومت میں اب تک کا دوسرا سب سے کم ترین درجہ حرارت تھا، کیونکہ سردیوں کا 40 دن کا سخت دور چلّی کلاں شروع ہوا۔ محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سری نگر میں گزشتہ رات کے 6.2 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں درجہ حرارت میں 2.3 ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی ریکارڈ کی گئی جو اس سیزن میں گزشتہ سب سے کم تھی۔ریکارڈ کے مطابق، 38 سالوں میں پچھلی کم ترین سطح 31 دسمبر 1986 کو ریکارڈ کی گئی تھی جب پارہ -7.9 ° C تک گر گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ اب تک کا سب سے کم درجہ حرارت 13 دسمبر 1934 کو دیکھا گیا جب پارا -12.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ پچھلی دہائی میںسری نگر میں 28 دسمبر 2018 کو پچھلی کم ترین سطح ریکارڈ کی گئی جب پارہ -7.7 ° C تک گر گیا۔ وادی کشمیر بدترین سردیوں میں سے ایک کا مشاہدہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قاضی گنڈ میں کم از کم درجہ حرارت منفی 8.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات منفی 7.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات منفی 8.2 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں بھی کم از کم درجہ حرارت منفی 5.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات منفی 5.8 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔عہدیدار نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے کپواڑہ قصبے میں گزشتہ رات منفی 6.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم سے کم 7.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔عہدیدار نے بتایا کہ گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات منفی 6.0 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔انہوں نے کہا کہ جموں میں کم از کم درجہ حرارت 5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو کہ گزشتہ رات تھا، اور یہ جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت کے لیے معمول سے 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم تھا۔انہوں نے کہا کہ بانہال میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ، بٹوٹ میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ اور بھدرواہ میں منفی 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔’’چلہ کلاں‘‘ سردیوں کا 40 روزہ سخت دور آج سے شروع ہوا اور یہ 29 جنوری کو ختم ہوگا۔ تاہم اس کا مطلب سردیوں کا خاتمہ نہیں ہے۔ اس کے بعد 20 دن کا طویل دورانیہ ‘چِلّی خورد’ آتا ہے جو 30 جنوری سے 19 فروری کے درمیان ہوتا ہے اور 10 دن کا طویل دورانیہ ‘چِلّی بچہ’ (بچوں کی سردی) جو 20 فروری سے یکم مارچ تک ہوتا ہے۔ دریں اثناء محکمہ ہیلتھ نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ گھروں سے نکلنے کے دوران اچھی طرح سے گرم ملبوسات کا استعمال کریں اور دستانے ، جرابے ، اونی ٹوپی اور مفلر کا استعمال کریں اور رات کو جلدی گھروں تک پہنچیں اور رات کے دوران پیدل یا موٹر سائکل پر سفر کرنے سے گریز کریں۔ ادھر لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر پانی نہ پھینکیں ، دکانداروں کو بھی چاہئے کہ دکاندوں کے سامنے سڑکوں پر پانی نہ ڈالیں اور گھر والے بھی اس سے پرہیز کریں کیوں کہ منفی درجہ حرارت کی وجہ سے سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوتی ہے جو سڑک حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔










