چلہ کلاں سے پہلے سخت سردی اور خشک موسم

کشمیر میں ’چِلّہ کلاں‘ کی آمد ،سری نگر میں دسمبر کا کم سے کم درجہ حرارت دو ڈگری

سرینگروی او آئی//وادی کشمیر کے بالائی علاقوں میں رات بھر برفباری کے بعد اس ماہ پہلی بار کم سے کم درجہ حرارت صفر سے اوپر درج کیا گیا۔ حکام کے مطابق سری نگر-دراس شاہراہ پر واقع زوجیلا پاس، منی مارگ اور بالتل میں برفباری ہوئی، جبکہ بانڈی پورہ ضلع کی گریز وادی کے تلیل علاقے سے بھی برفباری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے گریز سیکٹر کے تلیل علاقے کی بلند چوٹیوں پر اتوار کی صبح تازہ برفباری ہوئی جس کے بعد خطے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برفباری وقفے وقفے سے جاری رہی اور زیادہ تر بالائی علاقوں تک محدود رہی، جبکہ زیریں حصوں میں سرد ہوائیں اور ابر آلود موسم نے سردی کو مزید بڑھا دیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ برف کی نئی تہہ نے پہاڑوں کو سفید چادر اوڑھا دی ہے اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث انہیں سخت موسم سے نمٹنے کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑ رہی ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ برفباری ہلکی نوعیت کی ہے اور روزمرہ زندگی یا ضروری خدمات میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی، تاہم انہوں نے بالائی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے کیونکہ رات کے وقت سردی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اگرچہ موسم سخت ہے، لیکن مقامی افراد نے برفباری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پانی کے ذخائر اور مقامی ماحولیاتی نظام کے لیے فائدہ مند ہے۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں نے وادی کی قدرتی خوبصورتی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں سرد موسم کے جاری رہنے اور بالائی علاقوں میں مزید ہلکی برفباری کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ دریں اثناء پلوامہ وادی کا سب سے سرد علاقہ رہا جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.7 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ اور کوکر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری، شمالی کشمیر کے کپواڑہ میں 1.2 ڈگری، گلمرگ میں 1.4 ڈگری اور پہلگام میں 2.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ادھر