چلہ کلاں برف کے ساتھ دستک دینے کو تیار

خشک سردی کا خاتمہ قریب، 20 دسمبر سے وادی میں باراں و برفباری متوقع

سرینگر/ یواین ایس / کشمیر میں سردیوں کے سخت ترین دور چلہ کلاں کے آغاز کے ساتھ ہی موسم ایک بار پھر کروٹ لینے والا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک فعال مغربی خلل 21 اور 22 دسمبر کے دوران جموں و کشمیر کو متاثر کرے گا، جس کے نتیجے میں طویل خشک سالی کے خاتمے کے ساتھ وادی اور ملحقہ علاقوں میں بارش اور برفباری متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ مغربی خلل چلہ کلاں کے آغاز کے ساتھ ہی خطے میں داخل ہوگا، جو بالائی علاقوں میں درمیانی سے بھاری برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری کا سبب بن سکتا ہے۔ 40 روزہ چلہ کلاں، جو سردیوں کا سب سے سخت اور برفیلہ دور تصور کیا جاتا ہے، اس ہفتے کے اختتام پر شروع ہو کر 29 جنوری تک جاری رہے گا۔ طویل خشک اور سرد دنوں کے بعد دو لگاتار مغربی خلل وادی اور جموں میں بارش و برفباری کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے نہ صرف سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا بلکہ پانی کے ذخائر، زراعت اور فضائی آلودگی کے مسائل میں بھی عارضی راحت متوقع ہے۔محکمہ موسمیات اور کشمیر ویدر کی تازہ پیش گوئی کے مطابق 20 سے 23 دسمبر کے دوران جموں و کشمیر میں دو مغربی خلل اثر انداز ہوں گے۔ 19 دسمبر کو موسم عمومی طور پر خشک مگر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، جبکہ 20 دسمبر کی رات سے موسمی سرگرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے۔ ماہر موسمیات سونم لوٹس کے مطابق 20 دسمبر کی رات سے 22 دسمبر کی صبح کے درمیان شدید برفباری کا امکان ہے، جس کے باعث روزمرہ زندگی اور ٹرانسپورٹ نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زوجیلا، رازدان، سادھنامرگن اور سنتھن جیسے اہم پہاڑی درے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ زوجیلا، شِنکولا، چانگلا، خاردونگلا اور رازدان ٹاپ پر ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔ اس دوران سرینگر ہوائی اڈے سے پروازوں کی روانی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔پہلا مغربی خلل ہفتہ کی رات خطے میں داخل ہوگا، جبکہ دوسرا نظام پیر کے روز اس میں ضم ہو کر منگل کی دوپہر تک اثر انداز رہ سکتا ہے۔ بارش اور برفباری کا آغاز بالائی علاقوں سے ہوگا، جس کی شدت اتوار اور پیر کے دوران عروج پر رہنے کا امکان ہے۔شمالی کشمیر کے بلند علاقے، بالخصوص ضلع کپواڑہ، اس موسمی نظام سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ کپواڑہ کے بالائی حصوں میں درمیانی سے بھاری برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ بانڈی پورہ، گاندربل اور بارہمولہ کے بلند علاقوں میں بھی ہلکی سے درمیانی برفباری متوقع ہے۔ سونمرگ اور گل مرگ جیسے معروف سیاحتی مقامات پر بھی برف پڑنے کے امکانات ہیں، جو سرمائی سیاحت کے لیے موافق ثابت ہو سکتے ہیں۔میدانی علاقوں میں زیادہ تر ہلکی بارش متوقع ہے، تاہم بعض مقامات پر درمیانی درجے کی بارش بھی ہو سکتی ہے۔ نسبتاً زیادہ درجہ حرارت کے باعث وادی کے میدانی علاقوں میں برفباری کے امکانات کم ہیں۔ تاہم پیر کی رات سے منگل کی صبح کے دوران درجہ حرارت میں کمی کے سبب اگر بارش یا برفباری ہوئی تو بالائی علاقوں میں خشک برف جمع ہونے کا امکان ہے، جس سے 3,200 میٹر سے زائد بلندیوں پر برف کی مقدار نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔جموں خطے میں اس دوران ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں بادل چھائے رہنے کا امکان ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کشمیر، مختار احمد کے مطابق 19 دسمبر تک موسم جزوی سے مکمل طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اور وسطی کشمیر کے چند بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 دسمبر کی رات سے برفباری کی شدت میں اضافہ ہوگا، 21 دسمبر کو بالائی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برفباری اور میدانی علاقوں میں کئی مقامات پر ہلکی بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے دھند کے باعث حدِ نگاہ میں کمی کا بھی انتباہ جاری کیا ہے اور مسافروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹروں کو مشورہ دیا ہے کہ برفباری اور منفی درجہ حرارت کے پیش نظر سڑکوں پر پھسلن کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک اور انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق فلائٹ آپریشنز معمول کے مطابق رہنے کی توقع ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے اور ٹریفک و انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق اس موسمی تبدیلی سے وادی میں جاری طویل خشک سالی کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا، جس سے فضائی آلودگی میں نمایاں کمی اور جنگلاتی آگ کے خدشات میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر بارش و برفباری کی مقدار بہت زیادہ نہیں ہوگی، تاہم ہ چلہ کلاںکے آغاز کے ساتھ یہ پہلا نمایاں موسمی نظام وادی کے لیے ایک اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ زمینی مشاہدات کی بنیاد پر پیش گوئی میں مزید تبدیلی ممکن ہے، اور کسی بھی نئی صورتِ حال سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ادھر سردی کی شدت میں اضافہ جاری ہے اور گزشتہ شب جموں و کشمیر میں کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد کے آس پاس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت 0.2 ڈگری سیلسیس درج ہوا، جبکہ جنوبی کشمیر کے قصبہ قاضی گنڈ میں پارہ 0.8 ڈگری اور سیاحتی مقام پہلگام میں 0.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دنیا بھر میں مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت 1.6 ڈگری سیلسیس رہا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مغربی خلل کے اثر سے رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے سردی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔