Chahla Kalan Ka Pahladan Arrangement of 'Yom Phiran' in historical greed

چلہ کلان کاپہلادن:تاریخی لالچوک میں ’یوم پھیرن ‘ کااہتمام

سری نگر//چلہ کلاں کی آمد پر روایتی لباس پھیرن پہنے کئی مردوزن سماجی کارکنوں اورتاجروںنے منگل کے روز تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے ’یوم پھیرن ‘مناتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ روایتی ملبوسات زیب تن کرنے کیساتھ ساتھ دیگر روایات کوبھی زندہ رکھیں ۔خیال رہے بالغ شخص کیلئے لگ بھگ تین میٹر کپڑے سے بنائے جانے والے ’پھیرن‘کی کوموسم سرمامیں خاص اہمیت اورضرورت ہوتی ہے ،کیونکہ زیادہ ترکشمیری سردیوںکے ایام میں پھیرن ہی پہنتے ہیں ،اورپھرگھروں میں پھیرن کے نیچے روایتی کانگڑی لیکر شدیدسردی کامقابلہ بھی کرتے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ایک تاجر تنظیم اور کئی سماجی کارکنوں نے منگل کو شہنشاہ زمستان’ چلہ کلان‘ کے پہلے دن سری نگر کے تجارتی مرکز لالچوک میں واقع’ تاریخی ’گھنٹہ گھر‘ کے سامنے جمع ہو کر ’پھیرن ڈے‘ منایا۔’پھیرن‘ کشمیر کا ایک لباس ہی نہیں بلکہ یہاں کی دہائیوں پرانی ثقافت کا بھی ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔‘یوم پھیرن‘منانے کیلئے گھنٹہ گھرکے سامنے جمع ہوئے سماجی کارکنوں اوردیگرافرادجن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں ،نے کشمیری پھیرن پہنے ہوئے تھے اوروہ اس روایتی لباس کی اہمیت اورتاریخی افادیت کواُجاگر کرنے کیلئے یہاں جمع ہوئے ۔ ’پھیرن‘ پہنے ہوئے سماجی کارکنوںنے ہاتھوں میں پلے کارڈس بھی اٹھا رکھے تھے جن پر انگریزی زبان میں لکھاتھا’ ’پھیرن ہمارا لباس ہی نہیں بلکہ ہماری شان ہے‘، ’پھیرن پہننا ہماری روایت ہے‘، ’ہمیں پھیرن پہن کر اپنی ثقافت کو زندہ رکھنا چاہئے‘‘۔اس موقع پر ایک خاتون کارکن نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ آج چلہ کلان کی آمد بھی ہے، اس لئے ہم یہاں ’پھیرن ڈے‘ منانے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں جو ہر سال21 دسمبر کو یہاں منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چلہ کلان ہمارے لئے باعث مسرت بھی ہے اور تکلیف کا سبب بھی ہے۔خاتون سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ چلہ کلان کے دوران غریب لوگوں کو گوناگوں مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیونکہ ان کے پاس سردیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں۔اورگھروںمیں کپڑوںکوذخیرہ کرنے کے بجائے ہمیں اضافی کپڑے غریب لوگوںمیں تقسیم کرنے چاہیں۔خاتون سماجی کارکن نے کہا کہ اس موسم میں ہم سب کو پھیرن پہننا چاہئے کیونکہ یہ ہمارا لباس ہی نہیں بلکہ ہماری شاندار ثقافت کا ایک حصہ بھی ہے۔ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں کشمیر کی ثقافت سے جڑی تمام چیزوں کو زندہ رکھنا چاہئے اور ان کے فروغ کے لئے کام کرنا چاہئے۔ایک اور کارکن کا کہنا تھا کہ پھیرن پہن کر ہم کشمیر کی ثقافت کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔