سرینگر// چلہ کلان ختم ہونے کے باوجود بھی بجلی بریک ڈاؤن کے خلاف شمال و جنوب کے ساتھ ساتھ وسطی کشمیر میں صارفین محکمہ بجلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ صارفین نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف صارفین سے وقت پر فیس وصول کیا جاتا ہے تو دوسری جانب بجلی کی سپلائی کے حوالے سے لیت ولعل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے صارفین نے محکمہ بجلی کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہفتوں گذر جانے کے باوجود بھی صارفین کو محکمہ کی جانب سے مرتب شدہ شیڈول کے مطابق برقی رو کی سپلائی فراہم نہیں کی جاتی جس کے نتیجے میں سردیوں کے ان ایام کے دوران اہلیان کشمیر کو سخت ترین ذہنی کوفت کا سامنا ہے ۔سی این آئی کے مطابق موسم سرما کے دوران لوڈ شیدنگ کے نتیجے میں شہر ودیہات میں لوگ نہ صرف ذہنی کوفت کے شکار ہورہے ہیں بلکہ انہیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔موسم سرما کے دوران برقی رو نے بحرانی صورتحال اختیار کی جس کے نتیجے میں شہر ودیہات میں لوگ سڑکوں پر نکل کر محکمہ بجلی اور ریاستی انتظامیہ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں ۔سی این آئی نمائندوں نے جو تفصیلات دی ہیں ان کے مطابق لوگوں میں محکمہ بجلی کے خلاف شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے اور صارفین نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کی عدم دستیابی اب ایک معمول بن چکا ہے۔احتجاجی مظاہروں کا کہنا تھا کہ بجلی کب آئے گی اور کب جائے گی اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہی ہوگا کیونکہ بجلی کی آنکھ مچولی کا کھیل ہر گذرتے دن کے ساتھ سنگین رخ اختیار کرتا جارہا ہے ۔صارفین کا کہنا تھا کہ اگرچہ وقت پر فیس کی ادائیگی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں برقی رو سے محروم رکھا جارہا ہے۔صارفین کا کہنا تھا کہ محکمہ بجلی اور انتظامیہ انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہی ہے اور یہ کہ بجلی کی سپلائی کے حوالے سے لیت و لعل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں مجبوراََ سڑکوں پر آنا پڑتا ہے ۔ادھر سرحدی ضلع کپوارہ کے وادی لولاب میں درجنوں دیہات برقی رو کی عدم دستیابی کے نتیجے میں مشکلات کا سامناکررہے ہیں۔ اس صورتحال پر مقامی لوگوںنے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صارفین کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے ۔وادی لولاب کے درجنوںعلاقے بجلی کی عدم دستیابی کا سامنا کررہے ہیں اور شام ہوتے ہی ہر سو اندھیرا پھیل جاتا ہے ۔ مقامی لوگوںنے کہا ہے کہ محکمہ بجلی صارفین کو بجلی فیس اداکرنے کے باوجود بھی بجلی شیڈول کے مطابق فراہم نہیں کررہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ متعدد دیہات جن میں انور آباد، کھرہامہ،ورنو اور کاویری شامل ہیں میں چوبیس گھنٹوں میں محض چار گھنٹے بجلی دستیاب رکھی جاتی ہے وہ بھی ہرآدھے گھنٹے بعد بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور یہ سلسلہ دن رات چالو رہتا ہے ۔ مقامی لوگوںنے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے محکمہ لوگوںکو بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور شیڈول کے مطابق بھی علاقوں کو بجلی فراہم نہیں ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ علاقوںکو معقول بجلی فراہم نہیںکرے گا تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔
مغربی ایشیا پر کانگریس کے بیانات اشتعال انگیز، بھارتیوں کی جانوں کو خطرہ// وزیر اعظم
جموں و کشمیر میں 2100 سے کوڑا کرکٹ چھاٹنے کے شیڈ تعمیر
محکمہ صحت میں نئی عارضی بھرتیوں کی تجویز نہیں
3 برسوں میں 10 ہزار سے زائد اسامیاں مشتہر
راشن کی تقسیم کاری نظام
باغ گل لالہ میں 15 دن میں تقریباً 1.78 لاکھ سیاحوں کی آمد
کے اے ایس افسران کا 13 سالہ جمود پر اظہار تشویش
جموں و کشمیر میں ونڈ انرجی کے فروغ کا کوئی امکان نہیں
سیلابی نقصان کے باعث 9 میگاواٹ سیوا-III ہائیڈل پروجیکٹ بند
2,671 راشن کارڈ منسوخ، 14.4 لاکھ ترجیحی راشن کارڈ جاری










