سری نگر//انجمن فروغ اردو جموں و کشمیر اور پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے باہمی اشتراک سے انجمن کے صدر دفتر واقع ہولی ہوم اسکول چرار شریف بڈگام میں ‘اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی‘ پر مبنی دو روزہ ورکشاپ اتوار کو اختتام پذیر ہوا ہے۔ورکشاپ کے دوسرے دن کی پہلی نشست کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر توصیف احمد نے انجام دیے۔ اس تکنیکی نشست میں وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ماہر و باصلاحیت مقررین نے متنوع تربیتی موضوعات کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات شرکائے مجلس کے سامنے پیش کئے۔ڈاکٹر نصرت جبین (اسسٹنٹ پروفیسر اردو، مرکزی جامعہ کشمیر، گاندربل) نے نشست کی ابتدا میں ‘شاعری کی تدریس کے توجہ طلب پہلو‘کے موضوعات کے کم و بیش تمام تر اہم اور غور طلب عناصر کو بڑی خوش اسلوبی سے سامنے لایا اور اردو میں موجود روزگار کے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔میرساجد رمضان (لکچرر اردو، ڈائٹ اننت ناگ، حکومت جموں و کشمیر) نے ‘اردو اساتذہ کی پیشہ ورانہ خوبیاں‘ کے موضوع کے سلسلے میں اپنی گفتگو پیش کی۔انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں اسکول پر مبنی تشخیص پر طویل گفتگو کی اور طلبہ کی کثیر جہتی آموزش کو موضوع بنایا۔دوسرے دن کی آخری تکنیکی نشست میں ڈاکٹر محمد امتیاز احمد (مدرس شعبہ ارود ، گورنمنٹ ڈگری کالج ، شوپیان) نے ‘اردو زبان سکھانے کا معروضی طریقہ‘کے موضوع سے متعلق جدید اور موثر انداز میں اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا۔ ان کی پیشکش کو حاضرین مجلس اور دوسرے شرکا نے خوب سراہا۔ورکشاپ کی الوداعی تقریب کی صدارت پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر غلام نبی وار نے کی۔اس دوران کئی ایک شرکا اور مہمانوں نے اس دو روزہ پروگرام کی مختلف سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کر کے اردو اساتذہ کے لیے اس ورکشاپ کو انتہائی مفید، اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد پروگرام قرار دیا۔انجمنِ فروغ اردو جموں و کشمیر اور پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے منتظمین اور اراکین کے علاوہ نذر لاسلام (چیئرمین لائف اسکول، چرار شریف بڈگام)، ضلع بڈگام کے مختلف تعلیمی زونز کے پرائیوٹ اسکولوں سے وابستہ اساتذہ کرام اور کئی ایک ریسرچ اسکالرز نے شرکت حاصل کی۔الوداعی نشست کے اختتام پر صدر نشست غلام نبی وار نے اپنے صدارتی کلمات سے شرکا کو نوازا۔ انہوں نے اس طرح کے پروگراموں کو وقت کی اشد ضرورت کہتے ہوئے اس پروگرام کے منتظمین کو مبارک بادی پیش کی اور اس طرح کی تقاریب میں اپنا تعاون پیش کرنے کا بھروسہ دلایا اور بڈگام کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں اس نوعیت کے ورکشاپوں کے اہتمام پر زور دیا تاکہ پرائمری اور اسکنڈری سطح سے وابستہ اردو اساتذہ کی تعمیر و تربیت کے اس عمل کو مزید فروغ نصیب ہو۔اس موقع پر حاضرین مجلس نے ورکشاپ کے منتظمین اورانجمن کے سرپرست اعلیٰ میر علی محمد شیدا اور صدر ڈاکٹر الطاف انجم کی کوششوں اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔صدارتی کلمات کے فوراً بعد تمام مقررین اور شرکا پروگرام کو اسناد سے نوازا گیا۔ یوں دو دنوں پر مشتمل اس ورکشاپ کا بحسن و خوبی اختتام ہو گیا۔










