پی ڈی پی کوحدبندی کے عمل پر تحفظات وخدشات،کمیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ

سری نگر//اہم علاقائی مین اسٹریم جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے حد بندی کمیشن سے ملاقات کرنے کا بائیکاٹ کیاکرتے ہوئیکہا کہ یہ کمیشن دفعہ370 کی منسوخی کے بعد قائم کیا گیا ہے، لہٰذا یہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری غلام نبی ہانجورہ کی جانب سے حد بندی کمیشن کو مکتوب روانہ کیا گیا۔کشمیرنیو زسروس کے مطابق غلام نبی ہانجورہ کی جانب سے حد بندی کمیشن کوبھیجے گئے مکتوب میں لکھا گیاہے کہ حدبندی کمیشن کے متعلق جموں و کشمیر کے عوام میں تحفظات ہیں اور اس پر کئی سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے پی ڈی پی نے کمیشن کے ساتھ ملاقات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جموں و کشمیر میں اس کمیشن کے متعلق یہ رائے پائی جا رہی ہے کہ کمیشن کی طرف سے کی جانے والے حدبندی پہلی سے ہی طے ہے اور یہ مفاد عامہ کو زک پہنچائے گی۔مکتوب میں غلام نبی ہانجورہ نے آگے لکھاہے کہ اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں کی جارہی ہے جو کشمیری عوام کو مزید بے اختیار بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔مکتوب حدبندی کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس(ر) رنجنا پرکاش دیسائی کے نام لکھا گیا ہے۔خط میں لکھا گیا ہیکہ 5، اگست2019 کو ، ہمارے ملک کی آئینی اور جمہوری اقدار کو پامال کیا گیا جب آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کے ذریعہ غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر جموں و کشمیر کے عوام کے جائز آئینی اور جمہوری حقوق ختم کئے گئے۔ خط میں لکھاگیا ہے کہ تقریباً200سال پرانی ریاست جموں وکشمیر کادرجہ کم کرکے اوراسکو تقسیم کرکے جموں وکشمیر کے عوام کی توہین کی گئی ،اورایک ایسا فعل کیاگیاجسکی آزاد ہندوستان میں کوئی مثال نہیں ہے۔پی ڈی پی کے مطابقتنظیم نو ایکٹ اسی عمل کی پیداوار ہے ، ہمارے خیال میں یہ ہے کہ حدبندی کمیشن کے پاس آئینی اور قانونی منڈیٹ نہیںہے اور کمیشن کے وجود اور مقاصد نے جموں و کشمیر کے ہر عام باشندے کو بہت سارے سوالات کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یہ خدشات ہیں کہ حد بندی عمل جموں و کشمیر کے لوگوں کی سیاسی بے اختیاری کے مجموعی عمل کا ایک حصہ ہے ۔ بندی کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس(ر) رنجنا پرکاش دیسائی کے نام مکتوب میں مزیدلکھاگیا ہے کہ یہ خدشات ہیں کہ اس عمل کا مقصد جموں و کشمیر میں ایک خاص سیاسی جماعت کے سیاسی نظریے یانقطہ نظرکے تابع ہے،جس میںجموں و کشمیر کے لوگوں کے خیالات اور خواہشات کو بھی کم سے کم سمجھا جائے گا۔یہ ایک وسیع عقیدہ ہے کہ مشق کے معاہدے اور نتائج کا منصوبہ پہلے سے طے ہوتا تھا اور اس کی مشق محض رسمی ہے۔اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ، ہم یہ ریکارڈ رکھنا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام کی سراسر توہین ، ہمارے آئینی اور جمہوری حقوق کو پامال کرنے ، سیاسی قیادت اور عام شہریوں کی بے حرمتی اور انکی گرفتاری پر ،کے باوجود جب معزز وزیر اعظم نے 24جون کونئی دہلی میں کل جماعتی اجلاس طلب کیا ،تو ہم نے اپنی تکلیف کو راہ میں آنے نہیں دیا تاکہ مفاہمت کے ذریعے جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی کے عمل کا آغاز ہو۔ لہذا ، ہم نے اجلاس میں حصہ لیا۔ میٹنگ میں ہم نے جموں و کشمیر کے لوگوں تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا اور اعتماد پیدا کرنے کے مخصوص اقدامات تجویز پیش کی، جو نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے مابین بڑے پیمانے پر اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے عمل میں برف کو توڑ سکتے ہیں۔پی ڈی پی خط میں مزیدلکھاگیاہے کہ ہم یہ دیکھ کر مایوس ہیں کہ کل جماعتی اجلاس کے بعد کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے اور لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔پی ڈی پی نے مزید لکھاکہ تجویز شدہ اعتمادسازی اقدامات چھوڑئیے ،حکومت ہندنے جموں وکشمیر کے حوالے سے اپنے روزمرہ کے احکامات جاری رکھے ہوئے ہیں ،جس میں ملازمین سے متعلق حالیہ ترامیم اوراحکامات شامل ہیں،جس میں ہرفرد کومشکوک قرار دیکر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری ملازمین کے بارے میں پہلے چھان بین ہوگی اورپھراُن کے حق میں تعیناتی کے آرڈر جاری ہونگے جبکہ ایک حالیہ حکمنامے میں دربارمئو سے وابستہ سیکرٹریٹ ملازمین کوالاٹ شدہ سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کوکہاگیا ہے ،جس سے جموں وکشمیر کے مختلف خطوں کے درمیان تفریق بڑھ جائیگی ۔حدبندی کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس(ر) رنجنا پرکاش دیسائی کے نام مکتوب کے آخرمیں پی ڈی پی جنرل سیکرٹری غلام نبی لون ہانجورہ نے لکھاہے کہ مذکورہ بالا حقائق اور امور کے پیش نظر ، ہماری پارٹی نے اس عمل سے دور رہنے اور کسی مشق کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کا نتیجہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ بندی پہلے سے طے شدہ ہے اور جس سے ہمارے لوگوں کے مفادات کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔