’پیوٹن نے میرے شوہر کا قتل کیا‘، الیکسی نوالنی کی بیوہ کا روسی صدر پر الزام

مشہور روسی اپوزیشن رہنما ایلکسی نوالنی کی بیوہ یولیا نوالنایا نے روس کے صدر ولادمیر پیوٹن پر اپنے شوہر کے قتل کا الزام عائد کردیا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پیر کو جاری کردہ ویڈیو بیان میں اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے ایلکسی نوالنی کی بیوہ یولیا نوالنایا کا کہنا تھا کہ 3 دن قبل ولادیمیر پیوٹن نے الیکسی نوالنی کو قتل کردیا۔ یولیا نوالنایا کا کہنا تھا کہ الیکسی 3 سال کی اذیت اور تشدد کے بعد جیل کالونی میں وفات پاگئے ہیں۔
ولادیمیر پیوٹن کے خلاف لڑائی میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک الیکسی نوالنی کا ساتھ دینے والی ان کی اہلیہ نے اہنے شوہر کے کام کو جاری رکھنے کا بھی وعدہ کیا۔
یولیا نوالنایا نے کہا کہ سب سے اہم چیز جو ہم ایلکسی نوالنی اور اپنے لیے کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنی لڑائی جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جنگ کے خلاف، بدعنوانی، ناانصافی کے خلاف، منصفانہ انتخابات، اظہار رائے کی آزادی اور اپنے ملک کو واپس لینے کے لیے اپنی جدو جہد میں ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی عزم کیا۔ یولیا نوالنایا کا کہنا تھا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ صدر پیوٹن نے 3 دن پہلے الیکسی نوالنی کو کیوں مارا، ہم یہ معلوم کریں گے کہ یہ جرم کس نے کیا اور اسے کیسے انجام دیا گیا؟ ہم ان کے نام سامنے لائیں گے اور ان کے چہرے بے نقاب کریں گے۔واضح رہے کریملن نے پیر کو کہا تھا کہ الیکسی ناوالنی کی موت کی تحقیقات جاری ہیں اور مغربی میڈیا کو الیکسی نوالنی کے موت کا ذمہ دار ولادمیر پیوٹن کو ٹھہرانے پر آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
روسی حکام نے الیکسی نوالنی کی میت ان کی والدہ اور وکیل کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے ان کے حامی مشتعل ہو گئے ہیں، ان کے حامیوں نے الزام لگایا کہ قاتلوں نے یہ اقدام اپنے جرم کو چھپانے کے لیے اٹھایا ہے۔
یاد رہے کہ 16 فروری کو ایک عرصے سے جیل میں قید روس کے سب سے مشہور اپوزیشن لیڈر ایلکسی نوالنی جمعہ کو انتقال کر گئے تھے۔ یمالو نینٹس ڈسٹرکٹ کی وفاقی پینی ٹینٹیاری سروس نے اپنے بیان میں بتایا کہ نوالنی آج کھارپ کی آئی کے۔3 کالونی میں چہل قدمی کے بعد اچھا محسوس نہیں کررہے تھے اور کچھ دیر بعد بے ہوش ہو گئے جس کے بعد دوبارہ ہوش میں نہ آ سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کو ہوش میں لانے کی بہت کوششیں کی گئیں جو کارگر ثابت نہ ہو سکیں اور ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
جیل سروس کا کہنا ہے کہ ابھی تک موت کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔