پیرس//سن 2024کی اولمپکس گیمز کا میلہ ،پیرس میں پوری آب و تاب کے ساتھ سجنے کو تیار ہے ،جہاں ہزاروں شائقین ان خوشگوار لمحوں کے منتظر ہیں جب عالمی کھیلوں کی عظیم مشعل ایک بار پھر روشن ہو گی ، جس کی روشنی کرونا وائرس کی عالمیگر وبا کے پھیلاؤ کے دوران مہیب سایوں میں دھندلا گئی تھی ۔ فرانسیسی دارالحکومت کو یقین ہے کہ وہ ان کھیلوں کے انعقاد سے کاروباری دنیا کو متحرک کر سکتا ہے۔ لاکھوں مہمانوں کا استقبال کر سکتا ہے۔ ان کے آرام و آسائش اور قیام وطعام کا بندوبست کر سکتا ہے ،اور ایک بار پھر ان کھیلوں کے ذریعے ،کاروبار ،ثقافت ،فن ،امن اور محبتوں کو دنیا بھر میں پھیلا سکتاہے۔2016کے ریو ڈی جنیرو اولمپکس، افراتفری کا شکار رہے اور 2020میں ٹوکیو اولمپکس، ملتوی ہونے کے خطرات سے دوچار رہے، اس لیے اب دنیا بھر کے لیے یہ راحت و اطمینان کا لمحہ ہو گا کہ وہ پرسکون انداز میں اپنے پسندیدہ کھیلوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔منتظمین، کھلاڑی اور پرستار، پیرس میں اور علاقائی فرانسیسی شہروں جیسے لِل اور مارسیل میں، مقابلوں کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں اس یقین کے ساتھ، جنوبی بحرالکاہل میں تاہیٹی کے مقام پر سرفنگ کر رہے ہیں کہ اولمپکس کا میلہ دھوم سے سجے گا۔
26 جولائی کو ہونے والی افتتاحی تقریب سے پہلے ایک سال کے اندر اندر70 لاکھ کے قریب ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں۔
فرانس کے دو بڑے سٹار کھلاڑیوں ساکر یا فٹ بال کے ہیرو کلیان ماپے اور ابھرتے ہوئے دراز قد باسکٹ بال کھلاڑی اور مستقبل کی امید وکٹر ویمبنیا ما کو دیکھنے کے منتظر پرستا ر، مہنگے ٹکٹ خرید رہے ہیں۔










