پہلگا م سے چار کلو میٹر کی دوری پر بیسرن ایک خوبصورت وادی

اس جگہ تک پہنچنے کیلئے جنگلاتی علاقہ سے گھوڑوں کو چلانے کے بجائے پختہ سڑک کو اپنانے کی ضرورت

سرینگر//پہلگام سے چار کلو میٹر دور وادی بیسرن پہاڑیوں کے دامن میں واقع ایک خوبصورت جگہ ہے جس کیلئے 90کی دہائی سے قبل پہلگام آہنگر محلہ سے بیسرن تک فٹ پاتھ سڑک تھی اور آج بھی یہ پختہ سڑک گھوڑوں کے ذریعے سیاحوںکو اس وادی تک پہنچنے کا آسان راستہ ہے تاہم گھوڑے والے سیاحوںکو لیکر جنگلاتی علاقے کو اپناتے ہوئے بیسرن پہنچ جاتے ہیں جوکہ ایک مشکل اور پُر خطر راستہ ہے اور اس راستے سے نہ صر ف سیاحوں کی جانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے بلکہ اس سے جنگلات کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کی سب سے خوبصورت علاقہ پہلگام ہے جس کا دل بیسرن مانا جاتا ہے یہ بیسرن پہاڑیوں کے دامن میں واقع ایک بے حد خوبصورت علاقہ ہے جہاں تک سیاحو ں کو گھوڑوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے اور اس کیلئے 90کی دہائی سے قبل ہی سرکار نے پختہ پگڈنڈی نما سڑک بنائی تھی تاکہ گھوڑوں کے ذریعے سیاح اس جگہ تک آسانی کے ساتھ پہنچ جائیں ۔ تاہم گھوڑے والے وقت بچانے کیلئے جنگلاتی راستے کو اپنا تے ہیں جو کہ ایک کچا راستہ ہے اور اس راستے سے گھوڑے لڑھک کر گر آتے ہیں ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق آج کے گھوڑے والے جنگلوں میں شارٹ کٹ اپناتے ہوئے جلدی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک تو سیاحوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور گھوڑے بھی زخمی ہوجاتے ہیں اور سب سے بڑی بات اس سے جنگلات کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ اس ضمن میں لوگوں نے کہا ہے کہ گھوڑے والوں کو یہی راستہ اپنانے کی ہدایت دی جانی چاہئے ۔ اور گھوڑوں والوں کو بھی مختص روڑ پر ہی چلنے کو ترجیح دی جانی چاہئے اس سے ایک تو سیاحوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ناہی جنگلاتی علاقے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اور اس سلسلے میں محکمہ جنگلات، پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی اورپونے والوں کی ایسوسی ایشن کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوںکہ سیاحوں کے ساتھ ساتھ اس سے گھوڑے والوں کی جان بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ گھوڑوں کیلئے مخصوص سٹینڈ قائم کئے جاچکے ہیں تاہم ان سٹینڈوں میں گھوڑوں کو نہیں رکھا جاتا اس کے بجائے سڑکوں پر گھوڑوں کو رکھا جاتا ہے ۔