سرینگر// بڑرو پہلگام میں پانی کی شدیت قلت پر لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دور جدید میں بھی یہاں کے لوگ ندی نالوںکا ناصاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے ۔ لوگوں نے محکمہ کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں کئی بار ان سے بات کی گئی تاہم محکمہ کے ملازمین نے آج تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اُٹھایا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پہلگام کے بڑرو گائوں میں پانی کی قلت سے عوام پریشان بڑرو گاؤں میں 15 سال قبل پانی کی ٹنکی بنائی کی گئی تھی اور آج تک اس گاؤں میں پانی کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے جبکہ یہ گاوں ٹنکی سے محض 500 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ لوگوں نے کہا ہمارے علاقے میں گزشتہ کئی برسوں سے پانی کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے اور گاوں میں ہر کوئی پانی کے بحران سے پریشان ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں اگر چہ پانی زندگی کا ایک اہم جز ہے لیکن ہمیں پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسایا جارہا ہے۔مقا می لوگوں نے کہا کہ ہم نے پانی کی فراہمی کو بحال رکھنے کے لئے محکمہ جل شکتی کے ہر عہدیدار سے رجوع کیا ہے لیکن کوئی بھی ہماری شکایت پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای پر گاؤں میں پانی کی فراہمی کی سہولت کے لئے کوئی توجہ نہیں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ملازمین مناسب طریقے سے ڈیوٹی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ وہ پانی کی قلت کا شکار ہیں۔وہیں لوگوں نے ایل جی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ اننت ناگ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے پر توجہ دیں اور ان کے حقیقی مسئلے کو حل کریں۔اس معاملے میں جب سی این آئی نمائندے محمد اقبال نے اے ای ای محکمہ جل شکتی کے ساتھ بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ اونچائی میں آتا ہے اسی لیے وہاں پانی پہنچانا تھوڑا سا مشکل ہے اب ہم نے اس علاقے کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی ایک پروجیکٹ بنانے کی ایک تجویز پیش کی ہے ، جب تک اس پروجیکٹ کی منظوری مل جائے گی تب تک اس علاقے کی پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اعلی عہدیداروں سے گاؤں میں واٹر ٹینکر بھیجنے کی بات کی ہے تاکہ ان کو درپیش مشکلات سے تھوڑی سی راحت مل جائے۔










