dooran

پہلگام کی وادی بائسرن میں گندگی و غلاظت

ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے ، جنگلات کو بھی نقصان

سرینگر///پہلگام میں وادی بائیسرن میں گندگی و غلاظت جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے جبکہ پہلگام سے بائسرن تک کا جنگلاتی علاقہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔ اس بیچ غیر ملکی سیاحوں نے بھی پہلگام بائسرن میں ماحولیاتی آلودگی پر سخت تشویش کااظہار کیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سیاحتی مقام پہلگام میں وادی بائسرن جس کو ’’منی سویزر لینڈ ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ پہلگام سے بائسرن تک 1980سے پہلے ، روڑ بنایا گیا تھا جو پہلگام پروجیکٹ آرگنائیزیشن نے منظور کیا تھا اُس وقت پہلگام پروجیکٹ آرگنائزیشن ہی تھی جو پہلگام کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی ۔ اُس وقت بائسرن کیلئے اسی روڑ کو منظور کیا گیا تھا اورپونے والوں کو بائیسرن تک چلنے کی اجازت دی گئی تھیتاکہ آس پاس کے جنگلات کو بچایا جاسکے تاہم وہاں پر گھوڑے والے اس راستے کو چھوڑ کر جنگلاتی راستے کو اپنا تے ہیں جو ’’شارٹ کٹ‘‘ ہے لیکن اس سے جنگلات کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق پہلگام میں ہسپتال کے نزیدک تمام پونے والے موجود ہیں جن میں میں سے 100کی رجسٹریشن ہے۔ یہ گھوڑے والے ، چار پانچ گھوڑے رکھتے ہیں جن کو چلانے کیلئے لڑکوںکو رکھاجاتا ہے ۔ یہ پہلگام سے بائسرن تک گھوڑوںکے زریعے جاتے ہیں ۔جو آس پاس کے جنگلات ، نالہ لدر اور دیگر ماحولیات کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہورہا ہے ۔ اس ضمن میں متعلقہ حکام کے ساتھ جب بات کی گئی تو ڈویژنل فارسٹ آفیسر شمع روحی،نے بتایا کہ جنگلات کی فینسنگ کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوںنے بتایا کہ یہ منصوبہ پہلے ہی محکمہ کے زیر غور ہے تاکہ جنگلات کو بچایا جاسکے ۔ اس بیچ اسسٹنٹ ڈائریکٹر پہلگام نے بتایا کہ ہم سب پہلگام کو بچانے کی کوشش ہونی چاہئے ۔ انہوںنے بتایا کہ ہماری سب سے پہلی زمہ داری یہ ہے کہ ہم پہلگام جیسے خوبصورت علاقے کو بچائیں تاکہ یہاںپر سیاحت کو پروان چڑھایا جاسکے ۔ اگر پہلگام میں قدرتی ماحول ہی نہیں رہے گا تو یہاں پر کون آکر سیر کرے ۔ اس بیچ وی اوآئی نے ایک غیر ملکی سیاح سے جب بات کی تو اس نے بتایا کہ میں نے گھوڑے کولیا جب ہم بائیسرن پہنچے تو وہاں پرسخت گندگی ہے ، انہوںنے کہاکہ یہاں پر آلودگی بڑھ رہی ہے جو اس جنت نماء جگہ کیلئے خطرہ ہے ۔