election chair

پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کرسی عرصہ دراز سے خالی

لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا، متعدد کام التواء میں

سرینگر//پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی انتظامی بحران سے دوچار ہے کیونکہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر (CEO) کا کلیدی عہدہ مہینوں سے خالی رہتا ہے، جس سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے کیوں کہ ان کے کام عرصہ دراز سے التواء میں پڑ ے ہوئے ہیں۔ یہ عہدہ اُس وقت سے خالی ہے جب سابق سی ای او مسرت ہاشم کا 27 جنوری 2025 کو ان کی تقرری کے بعد صرف 45 دن بعد تبادلہ ہوا تھا۔ چارج مختصر طور پر اننت ناگ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، الیاس احمد نیسرو کو سونپا گیا تھا، لیکن 01 اپریل 2025 کو ان کے اچانک تبادلے سے یہ عہدہ خالی رہ گیا۔ فوری اپیلوں کے باوجود، حکومت نے ابھی تک ایک مستقل سی ای او کا تقرر نہیں کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یہ عہدہ خالی رہنے کی وجہ سے سیاحتی مقامی پہلگام میں نہ صرف عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ کئی منصوبے زیر التوا میں پڑے ہیں جبکہ یہ کرسی خالی رہنے کے کی جہ سے لوگوں کے کئی طرح کے مسائل حل ہی نہیں ہورہے ہیں۔ لوگوں نے وی او آئی نمائندے کو بتایا کہ ہم یہاںمسائل لے کر آتے ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ملتا،” ایک مقامی دکاندار نے کہاکہ یہ سیاحتی علاقہ ہے جہاں پر اس طرح کا عہدہ خالی رہنے کی وجہ سے سیاحتی سرگرمیوں سے متعلق ضروری کارراوئی بھی متاثر رہتی ہے۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی اے کا انجینئرنگ ونگ دو سال قبل محکمانہ تنظیم نو کے دوران تحلیل کر دیا گیا تھا، اور اب صرف ایک گزیٹڈ افسر ایک فنانس اہلکار اب انتظامی فرائض سنبھال رہا ہے۔اس ضمن میں ملازمین بھی پریشان ہیں جنہوںنے خبردار کیا ہے کہ اس عہدے کے خلا نے کئی پروجیکٹوں کو روک دیا ہے اور بیوروکریٹک تاخیر کو مزید خراب کر دیا ہے۔انہوںنے اس ضمن میں ڈائریکٹر ٹورازم ، صوبائی کمشنر کشمیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے ۔