پہلگام میں گھوڑے بانوں کی زندگی کسمپرسی کی حالت میں

سرینگر// شہر آفاق پہلگام میں گھوڑے بان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ گزشتہ تین برسوں سے اس کام کو سینکڑوں کنبوں نے الوداع کہہ کر مزدوری اور دیگر روزگار کی تلاش شروع کردی ہے کیوں کہ گزشتہ تین برسوں سے پہلگام میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہی ہے ۔ جبکہ سرکار نے بھی ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔نمائندےکے مطابق وادی کے مشہور سیاحتی مقام گلمرگ جو اپنی خوبصورتی کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے اس مقام سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزگار حاصل کرتے ہیں خاص کر گھوڑے بانوں کا روزی روٹی کمانے کا واحد ذریعہ یہی پر تھا ۔ کچھ برس تک قریب پندرہ ہزار کے قریب کنبے اس سے گھوڑے بانوں کے کام سے براہ راست جڑے تھے جن کا پیٹ اسی کام سے چلتا تھا ۔ ملکی و غیر ملکی سیاح یہاںآکر گھوڑے پر بیٹھ کر سواری کرتے تھے جس سے گھوڑے بانوں کا پیٹ پلتا تھا ۔ تاہم گزشتہ تین برسوں سے وہ بے کار بیٹھے ہیں اور اب گھوڑے بان یہ کام چھوڑ کر دوسرے کاموں کی تلاش کررہے ہیںکیوں کہ اس کام میں وہ اپنے اہل و عیال کا پیٹ نہیں پال سکتے ۔ ان گھوڑے بانوں کی روزی روٹی اسی کام پر منحصر ہے نہ ان کے پاس کوئی کھیتی باڑی ہے اور ناہی کوئی نوکری ہے ۔ سال 2019میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد پوری وادی کے ساتھ ساتھ پہلگام میں بھی کام ٹھپ ہوا ۔ پھر گزشتہ برس کووڈ ہو اور اس سال جب سیزن شروع ہونے کی امید تھی تو مارچ میں پھر کوروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈان ہوا اور سیاح یہاں آنے سے رہ گئے ۔ اب اس کام سے کم ہی کنبے جڑے ہیں جبکہ ان کے بچے اور نوجوان اب اس کام میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیںکیوںکہ سیاحوں کی عدم موجودگی کے سبب ان کا کام متاثر ہوچکا ہے اور ان کا اہل و عیال کا پیٹ مشکل سے پلتا ہے ۔ اس دوران اس کام سے جڑے افراد نے کہا کہ سرکار بھی ہماری طرف توجہ نہیں دے رہی ہے انہوںنے مطالبہ کیاہے کہ ان کے حق میں خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ ان کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔