سڑکیں سنسان اور بازار ویرانی کا منظر پیش کررہے تھے ، کئی ایک جگہوں پر احتجاج
سرینگر //پہلگام ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں مکمل احتجاجی ہڑتال رہی جبکہ جموں کے بعض اضلاع میں بھی بند کے پیش نظر معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئی ۔ ادھر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں ہو کا عالم رہا سڑکیں سنسان اور بازار ویران رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی محدود رہی ۔ اس بیچ کئی جگہوں پر ان ہلاکوں کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کے سیاحتی مقام بائسرن پہلگام میں منگل کے روز 27سیاحوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے انسانیت سوز حملے کے خلاف آ ج وادی بھر میں احتجاجی ہڑتال رہی ۔ احتجاج کی کال ’’متحدہ مجلس علماء‘‘ پی ڈی پی ، پی سی اور دیگر جماعتوں کی حمایت کے علاوہ مختلف تجارتی انجمنوں ، ٹرانسپورٹ انجمنوں نے بھی ہڑتال دی تھی جبکہ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے بھی اس کی مکمل حمایت کی تھی۔ احتجاجی ہڑتال کے پیش نظر وادی بھر میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں ، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں ۔ اس بیچ سرینگر سمیت تمام اضلاع اور قصبہ جات کی سڑکوں پر ہو کا عالم رہا اور سڑکیں ویران اور بازار سنسان دکھائی دے رہے تھے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی قریب قریب سڑکوںسے غائب رہا ۔ سرینگر کے بلوارڈ اور ڈلگیٹ میں بھی سخت ہڑتال رہی ۔ ادھر پہلگام ، گلمرگ، سونہ مرگ اور دیگر سیاحتی مقامات پر بھی مکمل ہڑتال کی گئی ۔ اس دوران سیاحوں کو ہوٹلو اور دیگر جگہوں پر ہر طرح کی سہولیات بہم رکھی گئی ۔ دریں اثناء کئی جگہوں پر مختلف انجمنوں کی جانب سے سیاحوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا اور اس حرکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی کی قیادت میں بھی احتجاج کیا گیا اور اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں منگل کے روز بائسرن کے مقام پر نامعلوم بندوق برداروں نے وہاں پر موجود قریب 27سیاحوں کو گولیوں سے ہلاک کردیا جبکہ متعدد سیاح زخمی بھی ہوئے ۔ اس معاملے کے حوالے سے امت شاہ وزیر داخلہ کل ہی یعنی منگل کے روز ہی وادی وارد ہوئے اور سرینگر میں حفاظتی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ آج انہوںنے بائسرن پہلگام کا دورہ کیا جہاں وہ سخت حفاظتی حصار میں اُس جگہ گئے جہاں پر یہ واقع پیش آیا تھا ۔










