پہلگام حملے کے بعد وادی آڑو سیاحوں کیلئے ہنوز بند

پہلگام حملے کے بعد وادی آڑو سیاحوں کیلئے ہنوز بند

سیاحت سے جڑے افراد بے روزگار، ایل جی سے آڑو کو سیاحوں کیلئے کھولنے کی اپیل

سرینگر/وی او آئی//22اپریل کے بعد پہلگام کی مختلف سیاحتی جگہوں کو سیاحوں کیلئے بعد کردیا گیا تھا جن کو بعد میں کھولا گیا تاہم وادی آڈو آج بھی بند ہے جس کے نتیجے میں سیاحت سے جڑے مقامی افراد کافی پریشان ہے جن کی روزی روٹی سیاحت پر ہی منحصر ہے ۔ ادھر سیاحت سے جڑے افراد نے آڈو وادی کو سیاحوں کیلئے دوبارہ کھولنے کی جموں کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر سے اپیل کی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق رواں برس 22اپریل کو بائسرن پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے حملے کے بعد ایل جی انتظامیہ نے پہلگام اور دیگر دور دراز علاقوں کے سیاحتی مقامات کو بند کردیا تھا جبکہ کئی ایک جگہوںکو دوبارہ سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا اور ساتھ ہی پہلگام کی دیگر سیاحتی جگہوں کو بھی کھولا گیا لیکن آڈو ابھی بھی بند ہے اور اس جگہ کسی بھی مقامی ، ملکی یا غیر ملکی سیاح کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں آڈو میں ہوٹل ، رستوران، دکاندار وں کا کام کاج ٹھپ ہوچکا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ آڈو میں سیاحت سے جڑے افراد نے اس سلسلے میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپیل کی ہے کہ آڈو کو دوبارہ سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں شروع ہوں ۔ اس ضمن میں ایک مقامی شخص محمد اسماعیل ملک نے کہا کہ اب حالات معمول پر آچکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان کا روزگار سیاحت پر ہی منحصر ہے اور جب سے یہ علاقہ سیاحوں کیلئے بند کردیا گیا ہے تب سے یہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ جس طرح سے دیگر جگہوں کو دوبارہ کھولا گیا اسی طرح اس جگہ کو بھی دوبارہ سیاحوں کیلئے کھول دیاجائے ۔