دو روز کے اندر جنوبی کشمیر میں نصف درج مکان مہندم ،کچھ اور مکانوں کو نقصان پہنچا
سرینگر // جموں و کشمیر کی حکومت نے پہلگام حملے کے بعد جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں لشکر طیبہ کے مشتبہ ملی ٹینٹوںکے مزید 3رہائشی مکانوں کو مسمار کر دیا ہے۔ اس دوران گزشتہ دو روزکے دوران5سرگرم ملی ٹینٹوں کے مکانوں کو منہدم کیا گیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق پہلگام حملے میں مبینہ طورملوث جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مزید تین ملی ٹینٹوں کے مکانوں کو منہدم کیا گیا ہے اس دوران دھماکوں کی وجہ سے مزید کچھ مکانوں کو پلوامہ میں نقصان پہنچا ہے ۔ حکام کی جانب سے مسمار کیے گئے تین مکانات پلوامہ کے احسن شیخ، شوپیاں کے شاہد احمد کٹے اور کولگام کے زاہد احمد کے تھے۔اطلاعات کے مطابق، احسن کشمیر میں مقیم لشکر کے اوور گراؤنڈ ورکرز میں شامل تھا جنہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستانی دہشت گردوں کو لاجسٹک اور یہاں تک کہ براہ راست مدد فراہم کی۔شاپد پر الزام ہے کہ وہ گزشتہ 3سے 4سالوں سے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے۔اسے قبل جمعہ کے روز جنوبی کشمیر کے ترال اور بجبہاڑہ علاقوں میں دو ملی ٹینٹوں کے مکانوں کو دھماکون سے اڑا دیا گیا تھا تاہم حکام نے اس بات کو یقینی بنایا کہ گھر والوں کو مسمار کرنے سے پہلے گھر خالی کر دیے تھے۔ایک رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر حکومت کے ایک اہلکار نے کہا، “اس کارروائی کا واضح طور پر مقصد مقامی دہشت گردی یا کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی حمایت کو روکنا ہے۔” “یہ مقامی نوجوانوں کے لیے ایک سخت یاد دہانی ہے کہ اگر وہ بندوق اٹھاتے ہیں اور دہشت گرد صفوں میں شامل ہوتے ہیں، تو ان کے خاندانوں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ان کے خاندانوں کو سرکاری مراعات اور سہولیات بشمول پاسپورٹ، سرکاری ملازمتوں اور پولیس کلیئرنس سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ یہ سب مرکز اور جموں و کشمیر انتظامیہ کی دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی کا حصہ ہے۔










