گزشتہ دنوں پہلگام میں ہونے والا دہشتگرد حملہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک گہرے صدمے کا باعث بنا۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب وادیٔ کشمیر سیاحت کے عروج پر تھی، جب ہزاروں سیاح امن و سکون کی تلاش میں پہلگام، گلمرگ اور دیگر حسین وادیوں کا رخ کر رہے تھے۔ حملے میں جان بحق اور زخمی ہونے والے بے گناہ شہری نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا کرتے ہیں بلکہ اس واقعے نے ایک بار پھر ہمارے امن، بھائی چارے اور سیاحت پر مبنی معیشت کو چیلنج کیا ہے۔
پہلگام، جو کہ اپنی قدرتی خوبصورتی، دریاؤں کی روانی اور سرسبز وادیوں کے لیے مشہور ہے، ایک بار پھر دہشتگردی کے سائے میں لپٹ گیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ منصوبہ بند اور اچانک تھا، جس کا مقصد نہ صرف جانی نقصان پہنچانا تھا بلکہ وادی کے پرامن ماحول کو خراب کرنا بھی تھا۔
اس حملے سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے دل چھلنی ہوئے بلکہ پورے کشمیر میں خوف و ہراس کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ دہشتگردی کی اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد سیاحت، جو کہ کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کو نشانہ بنانا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کشمیر نے جس طرح امن و استحکام کی طرف قدم بڑھائے، اس میں سیاحت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ لاکھوں سیاحوں کی آمد سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار ملا بلکہ کشمیر کی ایک نئی، خوشحال تصویر دنیا کے سامنے آئی۔
لیکن ایسے حملے نہ صرف اس ترقی کو پٹری سے اتارنے کی کوشش ہیں بلکہ کشمیری عوام کی محنت اور قربانیوں کی توہین بھی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بطور قوم، بطور معاشرہ، اور بطور ریاست اس چیلنج کا جواب کیسے دیں؟ کیا صرف سیکیورٹی سخت کرنا کافی ہوگا؟ یا ہمیں ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں عوام کی شرکت، نوجوانوں کی رہنمائی، اور شدت پسندی کے نظریات کے خلاف فکری محاذ قائم کرنا شامل ہو؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف واقعے کی مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ اس کے اسباب، پس منظر اور سدباب پر بھی سنجیدگی سے غور کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت بڑھائے بلکہ عوامی اعتماد، بین المذاہب ہم آہنگی اور تعلیم و ترقی پر بھی خصوصی توجہ دے۔ پہلگام حملہ ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ امن ایک نعمت ہے جسے قائم رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد، ہوشیاری اور اجتماعی شعور درکار ہے۔ دہشتگرد چاہے جتنی بھی کوشش کرلیں، وہ کشمیری عوام کے جذبۂ امن و محبت کو شکست نہیں دے سکتے۔ یہ وادی امن کی وادی ہے، اور رہے گی۔










