pahlwan

پہلوانوں کی حمایت میں مہاپنچایت، کسان یونین کی مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال متوقع

نئی دہلی: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری اور جنتر منتر سے پہلوانوں کے دھرنے کو پولیس کارروائی کے ذریعے ہٹانے کے مسئلہ پر ‘مہاپنچایت’ طلب کی ہے۔ بی کے یو کے قومی صدر نریش ٹکیت نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ جمعرات کو مظفر نگر ضلع کے سورم گاؤں میں ایک مہاپنچایت کا انعقاد کیا جائے گا۔
نریش ٹکیت نے کہا تھا کہ مہاپنچایت میں دہلی کے کھاپ اور کسان گروپوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس میں یوپی، ہریانہ، راجستھان، اتراکھنڈ اور پنجاب کے کسان رہنما شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے کسان لیڈر بھی اس مہاپنچایت میں پہنچنے والے ہیں۔
ٹکیت نے کہا ’’ہماری بیٹیوں کو ہراساں کی جا رہا ہے اور پورا ملک غصے میں ہے۔ حکومت ایک آدمی (ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ) کا دفاع کر رہی ہے۔ پرامن احتجاج کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ہم انہیں (احتجاج کرنے والے پہلوانوں) کو مایوس نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ہم نے ڈبلیو ایف آئی چیف (جنسی ہراسانی کے الزام میں) کو گرفتار کرنے کے مطالبے کے بارے میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت کے لیے ایک مہاپنچائیت بلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی بھی پہلوانوں سے بات کرنے نہیں آیا ہے۔‘‘
خیال رہے کہک ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والا پہلوان منگل کی شام اپنے تمغے گنگا میں ڈبونے ہر کی پوڑی پہنچی تھی۔