سرینگر میں دوسرے مرحلے کے بعدجہلم میں پانی کا حجم و بہائو 27سے40ہزار کیوسک ہوگا
سرینگر//محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے دعویٰ کیا ہے کہ2014کے تباہ کن سیلاب کے بعددریائے جہلم کے سیلابی تدارک کے جامع انتظام کے تحت پہلے مرحلے میں قریب400کروڑ روپے کی لاگت سے کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں1623کروڑ روپے کو منظوری دی گئی ہے۔ محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے کامیاب نفاذ کے بعد سیلاب کی کم سے درمیانی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور سنگم پوائنٹ سے60ہزار کیوسک کا اخراج ہوگا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ نارہ بل اور نائد کھئی میں فلڈ چینل کو وسعت دینے کیلئے1718کنال اراضی کی ضرورت تھی،جس میںسرکاری و نجی اراضی شامل ہیں اور99 فیصد اراضی کا حصول کیا گیا ہے۔ دریائے جہلم اور ہوکر سر میں پہلے مرحلے اور دوسرے مرحلے میں91کروڑ92لاکھ93ہزار روپے کی مختص لاگت سے کولکتہ نشین ایک کمپنی ایم ایس ریچ ڈرجنگ لمیٹیڈ کو سونپا گیا ہے جس کے دوران26.62 لاکھ کیوبک میٹر کی ڈرجنگ کی گئی۔ اعداد شمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنزی نارہ میں فلڈ سپیل چینل میں20کروڑ23لاکھ، سوپور سے شیری بارہمولہ تک دریائے جہلم میں مختلف مقامات پر26کروڑ77 لاکھ78ہزار، ہوکر سر میں پانی کے حجم میں اضافہ کیلئے6کروڑ15لاکھ اور ہوکر سر میں ہی4کروڑ32لاکھ روپے کی لاگت سے نکاسی کے تحفظ و ڈریجنگ اور دیگر امورات کیلئے یہ کام سونپا گیا ہے۔محکمہ کا کہنا ہے کہ2014سے قبل دریائے جہلم میں سنگم سے پادشاہی باغ تک پانی کے اخراج کا حجم31ہزار800کیوسک تھا جو پہلے مرحلے کے بعد41ہزار کیوسک ہوگیا اور دوسرے مرحلے کے اختتام پر60 ہزار کیوسک ہوگا جبکہ رام منشی باغ میں اخراج کا حجم27 ہزار کیوسک تھا جو32 ہزار ہوگا جبکہ دوسرے مرحلہ پایہ تکمیل پہنچنے پر40ہزار600کیوسک ہوگا اور دریائے جہلم میں سوپور میں31ہزار کیوسک تھا جو اب35ہزار ہوگیا ہے اور دوسرے مرحلے کے اختتام تک40ہزار600کیوسک ہوگا۔محکمہ نے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ فلڈ چینل میں پادشاہی باغ میں پانی کے دخول کی صلاحت4ہزار کیوسک اخراج کی صلاحت20ہزار کیوسک تھی جو اب بالترتیب8700 کیوسک اور22 ہزار700کیوسک ہوگئی ہے اور دوسرے مرحلے پرپانی کے داخل ہونے کی صلاحت17ہزار اور اخراج کی صلاحت 30ہزار931کیوسک ہوگی ہیں جبکہ ولر میں ننگلی(بارہمولہ)کا اخراج پہلے31ہزار کیوسک تھا جو اب35ہزار ہوگئی اور دوسرے مرحلے کے پایہ تکمیل ہونے تک61ہزار110کیوسک ہوگی۔محکمہ فلڈ کنٹرول و آبپاشی کا مزید کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور اس کی معاون ندی نالوں کیلئے جامع سیلابی تدارک منصوبے کے دوسرے مرحلے کو5411کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا اور مرکزی حکومت کو یہ پلان سپرد کیا گیا جبکہ اس منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور پہلے حصے کو1623کروڑ43لاکھ روپے کو منظوری دی گئی،اور اس پروجیکٹ میں مرکزی حکومت کا حصص1303کروڑ6لاکھ جبکہ یو ٹی کا حصہ320کروڑ37لاکھ روپے ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروجیکٹ کو3برسوں میں مکمل کرنا ہے اورمارچ2025 ڈیڈ لائن ہے۔دوسرے مرحلے میں فی الوقت113کروڑ روپے کی لاگت سے دریائے جہلم کے پشتوں کی تعمیر و انکی حفاظت کیلئے16تعمیراتی کام مختلف مراحل میں ہیں جن میں28کروڑ45لاکھ روپے کی لاگت سے ہوکرسر میں پانی کے داخلی اور اخراجی گیٹ کا کام بھی جاری ہے۔










