پٹریوں پر ملبوسات یا دیگر ساز وسامان فروخت کرنے والے بے بس

سرینگر//عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس کے گذشتہ ماہ سے یومیہ مثبت کیسز میں کمی آنے کے بعد سرکارنے جموں وکشمیر کے بیشتر اضلاع میں لاک ڈاون میں نرمی لانے کا فیصلہ لیا اورکئی دنوں کو چھوڑ کر بازار ،دفاتر اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری ادارے کھلے رہتے ہیں ۔حالات قدرے بہتر ہیں اور کام کاج بھی کسی حد تک بحال ہوا ہے ۔البتہ سنڈے مارکیٹ مسلسل گذشتہ تین ماہ سے زائد عرصہ سے شہر ودیہات میں بند پڑے ہوئے ہیں اور سنڈے مارکیٹ میں پسماندہ طبقہ کے لوگ پٹریوں پر ملبوسات یادیگر سازوسامان رکھ کر اپنی روزی روٹی کیلئے کماتے تھے اور غریب عوام جو بڑے بڑے دکانوں سے ملبوسات یا دیگر سازوسامان خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں وہ سنڈے مارکیٹ کا انتظار کرتے تھے کیونکہ وہاں پر ان کو سستے داموں بہت ساری چیزیں ملتی تھیں ۔لیکن جب سے سنڈے مارکیٹ بندہوئے تب سے مارکیٹ میں کام کرنے والے غریب افراد پر سکتہ طاری ہے جبکہ غریب عوام بھی اس حوالے سے پریشان حال ہیں ۔اس سلسلے میں شہر سرینگر کے معروف سنڈے مارکیٹ اور وادی کے دیگر قصبہ جات میں قائم شدہ سنڈے مارکیٹس میں کام کرنے والے چھاپڑی فروشوں ،ریڈی بانوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اتوار کا ہفتہ بھر بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کرتے رہتے تھے کیونکہ اسی دن ان کام چلتا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ان کے مارکیٹ بند کئے گئے جس کے نتیجے میں وہ لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس دن ہی کماکر اپنے اہل وعیال کو دو وقت روزی روٹی دیا کرتے تھے لیکن جب سے سنڈے مارکیٹ بند ہوئے ہیں تب سے ان کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بازار وں،گاڑیوں و عوامی مقامات پر لوگوں کی دن بھر گہماگہمی رہتی ہے تو صرف سنڈے مارکیٹس کو بند رکھنے کا کیا مطلب ہے ؟انہوں نے کہا کہ وہ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذارتے ہیں اور کہا کہ کوروناکے بیچ جاری کردہ ایس اوپیز کی پابندی لازمی ہے اور اس کیلئے انتظامیہ یا پولیس کو اپنا رول نبھائیں اور خریداروں و چھاپڑی فروشوں کو پابند بنائیں ۔اس دوران کئی افراد نے بتایا کہ وہ اس مالی بدحالی کے بیچ سنڈے مارکیٹ سے اپنے لئے یا اہل وعیال و بچوں کیلئے سنڈے مارکیٹ سے ہی سستے داموں ملبوسات یا گھریلو سامان خریدتے تھے لیکن جب سے سنڈے مارکیٹ بند ہوئے ہیں تب سے وہ ہائی اسٹینڈارڈ دکانوں سے کوئی چیز خریدنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کی مالی حالت ابتر ہے ۔اس سلسلے میںانہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا پروٹو کال کو بنائے رکھتے ہوئے سنڈے مارکیٹ کو کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ اس سے منسلک افراد کی پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے اور غریب خریداروں کے مسائل بھی حل ہوجائیں گے ۔