مساجد کے لوڈ سپیکروںپراعلان ،کام کاج یا گھروں سے مصروف لوف فوری طور واپس آئیں
سری نگر//سرحدی ضلع پونچھ کے مینڈھرعلاقہ کے مضافاتی جنگلات میں چھپے ہو ئے جنگجوئوں کے ایک گروپ اور سیکورٹی فورسز مسلسل نویں روز بھی تلاش کرنے میںمصروف رہے ہیں ۔ 9دنوں سے جاری اس جنگجومخالف آپریشن کے دوران فوج کے 2افسروں سمیت9 فوجی جوان جاں بحق ہوئے ہیں ۔مسلسل آپریشن کے بعد فوج نے علاقے میں ممکنہ طور کسی بڑی کارروائی کا آغاز کیا ہے کیوںکہ علاقے کی مقامی مساجد کے لوڈ سپیکروں پر فوج کی جانب سے لوگوں کو جنگلات یا اراضی کھیتوں سے فوری طور واپس کر گھروں میں رہنے کی ہدایت دی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں کے مینڈھرپونچھ کے مضافاتی جنگلوںمیں موجود جنگجوئوں کے کیخلاف سیکورٹی فورسزکا آپریشن منگل کو نویں روز بھی جاری رہا ہے۔نمائندے کے دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان کوئی فائرنگ نہیں ہوئی ہے تاہم فوج نے وسیع علاقے میں سخت محاصرہ شروع کر کے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا ہے ۔نمائندے نے بتایا علاقے میںفون نے منگل کے روز بعد دوپہر مساجد کے لوڈ سپیکروں سے یہ علان کیا کہ جو بھی لوگ گھروں سے باہر کھیتوں میں کام کر رہے ہیں یہاں مال مویشی کے ساتھ جنگلات میں ہیں وہ فوری طور گھروں کو واپس لوٹ کر اندر بیٹھیں ۔اگر چہ سرکاری طور یہاں کسی بڑی کارروائی کے حوالے سے نہیں بتایا گیا ہے تاہم جس طرح سے علاقے میں تیاریاں ہو رہی ہے اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کوئی بڑی کارروائی ہونے والی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا ہم مال مویشی پالنے والے لوگ ہیں اور ان اعلانوں کے بعد ان کے دلوں میں خوف محسوس ہوا ہے۔خیال رہے جنگجوئوں کیخلاف اس آپریشن میں فوج وفورسزکے علاوہ پیراملٹری کمانڈوز بھی شامل ہیں ،اورطرفین کے درمیان گزشتہ9دنوںمیں کئی بار ہوئے گولہ باری کے تبادلے میںفوج کے کچھ افسروں سمیت 9فوجی جوان جاں بحق ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج ، پولیس ، نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیم ایلیٹ کمانڈوز کے ساتھ پہلے ہی مینڈھر کے نار خاص جنگلات کی تلاشی لے رہی ہے۔گھنے جنگلوںمیں چھپے ہوئے دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ذرائعنے کہا کہ دہشت گرد گھنے جنگل والے علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے ہیں جس کا سرچ پارٹیوں کی جانب سے مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فوجی جوان محتاط انداز میں پیش قدمی کر رہے ہیں کیونکہ دہشت گرد جو کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں ، جنگلوں میں اچھی طرح پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔واضح رہے 11، اکتوبر کو شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک فوج کے9 اہلکار ، جن میں 2جونیئر کمیشنڈ افسران بھی شامل ہیں ، جاں بحق ہو چکے ہیں۔سیکورٹی فورسزکیلئے دہشت گردوں کو نکالنے کا آپریشن مشکل ثابت ہوا ہے ، خاص طور پر مشکل علاقے اور گھنے جنگلات کی وجہ سے معرکہ آرائی کو طول ملاہے۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ اورسیکورٹی فورسزکی نقل وحمل سے متعلق اطلاعات فراہم کرنے کے الزام میں3 افراد کو حراست میں بھی لیا گیاہے۔ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تلاشی کے دوران 2 افراد کو بھاری مسلح دہشت گردوں کے ایک گروپ کو کھانا اور پناہ گاہ فراہم کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے،اورمزید تفصیلات ومعلومات حاصل کرنے کیلئے زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے.










