dooran

پونچھ میں قبائلی میوزیم اور ریسرچ سنٹر کے قیام کیلئے طریقوں کو حتمی شکل دی گئی

سرینگر//محکمہ قبائلی امور اور جموں یونیورسٹی نے پونچھ میں ایک جدید ترین قبائلی عجائب گھر اور تحقیقی مرکز ( ٹی ایم آر سی ) کے قیام کیلئے طریقوں کو حتمی شکل دی ، جو کہ قبائلی ثقافت ، تحقیق ، ادب میں ایک عمدہ مرکز کی تجویز ہے اور جموں ، راجوری ، اودھمپور اور سرینگر کے قبائلی عجائب گھروں کیلئے تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ سیکرٹری قبائلی امور ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کے ہمراہ ڈائریکٹر قبائلی امور مشیر احمد مرزا ، جوائینٹ ڈائریکٹر پلاننگ شمع ان احمد ، ایف اے /سی اے او صادق علی اور او ایس ڈی مشن یوتھ ڈاکٹر عبدالخبیر نے جموں یونیورسٹی منیجمنٹ وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر ایم کے دھر وی سی ، پروفیسر دیپانکر سینگپتا ڈائریکٹر پونچھ کیمپس یونیورسٹی آف جموں ، سریش شرما ایکسین یونیورسٹی ورکس ڈیپارٹمنٹ ، یونیورسٹی آف جموں ڈاکٹر مالے ڈے ، سینٹر فار میوزولوجی ، جموں یونیورسٹی ، عرفان گونی ، آفیسر کیمپس ڈیولپمنٹ ، یونیورسٹی آف جموں اور ایم ایس سروش ٹاک کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ۔مشاورتی کمیٹی نے قبائلی عجائب گھر اور تحقیقی مرکز ( ٹی ایم آر سی ) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے 500.00 لاکھ روپے کی رقم قبائلی امور کے محکمے کی طرف سے فراہم کی جائے گی ۔ سیکرٹری قبائلی امور کے محکمے ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے ٹی ایم آر سی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا اور اس پروجیکٹ پر جلد کام شروع کرنے کیلئے جموں یونیورسٹی سے تعاون مانگا ۔ انہوں نے جے یو اور بی جی ایس بی یو کے اشتراک سے پونچھ اور راجوری میں قبائلی نوجوانوں کیلئے مختلف ہنر مندی کے کورسز کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ۔ وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر ایم کے دھر نے مختلف ریسرچ فیلو شپ اور ریسرچ پروجیکٹس کی تجویز پیش کی جنہیں قبائلی امور کے محکمے نے موجودہ مالی اور تعلیمی سال سے شروع کرنے پر اتفاق کیا ۔ ہیڈ پونچھ کیمپس ڈاکٹر دیپانکر سینگپتا نے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ ، پروجیکٹ کی تکمیل کی ٹائم لائینز ، نوادرات کی خریداری ، عجائب گھروں کی ترقی اور مختلف تحقیقی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔