pension

پنشن کیسوں کو بروقت نہ نپٹانے پر سرکار برہم

رقومات واگزار اور تقسیم کرنے والے افسران کو غفلت پر کارروائی کی وارننگ

سرینگر/ یو این ایس/ / محکمہ خزانہ جموں و کشمیر نے پنشن کیسوں میں تاخیر، ڈیٹا میچ نہ ہونے، نامکمل معلومات اور تکنیکی خامیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پنشن سوِدھا پورٹل کے ذریعے کیسوں کو جمع کرانے کیلئے اضافی اور سخت ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو بروقت اور بغیر رکاوٹ پنشن کی منظوری یقینی بنائی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق یہ ہدایات محکمہ خزانہ کے پرنسپل سیکریٹری سنتوش ڈی وایدیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکیولرکے ذریعے تمام انتظامی محکموں، دفتروں کے سربرہاں،رقومات واگزار اور تقسیم کرنے والے افسران اور پنشن منظوری دینے والے حکام کو جاری کی گئی ہیں۔سرکیولرکے مطابق ریٹائر ہونے والے ملازم کا نام، تاریخ پیدائش اور دیگر تفصیلات لازماً سروس بک اور ’ ہیومن ریسورس منیجمنٹ سسٹم ریکارڈ سے مکمل مطابقت رکھنی چاہئیں۔ تقرری کی تاریخ کے بجائیسروس بک میں درج شمولیت کی اصل تاریخ ہی پنشن فارموں میں درج کی جائے گی۔ اسی طرح ملازم کا زمرہ (گزٹیڈ یا نان گزٹیڈ) درست طور پر درج کرنا لازمی ہوگا۔محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ خواتین ملازمین کے معاملے میں فارم،7 میں شوہر کا نام درج کرنا لازمی ہوگا جبکہ سروس بک اپلوڈ کرتے وقت مسلسل دو صفحات (دائیں اور بائیں) ایک ساتھ اپلوڈ کیے جائیں تاکہ ریکارڈ واضح اور قابلِ مطالعہ ہو۔یو این ایس کے مطابق فیملی پنشن اور گریجویٹی کیلئے نامزدگی درج کرتے وقت فارم،7 میں’ہاں یا نہیں‘ واضح طور پر درج کیا جائے اور نامزد فرد کا نام درست تحریر کیا جائے۔ شریک حیات کا نام اور تاریخ پیدائش تمام متعلقہ فارموںمیں یکساں ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔سرکیولرکے مطابق جہاں ممکن ہو مشترکہ تصویر اپلوڈ کی جائے گی۔ فارم،14اے کا استعمال ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ شادی کرنے والے شریک حیات کیلئے فیملی پنشن کے معاملات میں ہوگا۔ فارم ’’ ڈی‘‘ صرف انہی کیسوںمیں اپلوڈ ہوگا جہاں ملازم نے پنشن کمٹیشن کی درخواست دی ہو۔مزید کہا گیا ہے کہ پینشن کیس اپلوڈ کرنے سے قبل پنشن کی قسم (ریگولر یا فیملی پنشن) درست طور پر منتخب کرنا لازمی ہوگا۔ بارکوڈ شدہ فارموں کو اپلوڈ کرنے سے قبل پنشن منظور کرنے والے حکام کی جانب سے تصدیق شدہ ہونا ضروری ہوگا۔محکمہ خزانہ نے ہدایت دی ہے کہ آن لائن بھرنے کے بعد پانچ یومِ کار کے اندر اندر فزیکل فائل (سروس بک، ڈسکرپٹو رولز وغیرہ) دفتر پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل کو پہنچائی جائے، بصورت دیگر کیس واپس کیا جا سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق یکم ستمبر 2025 سے قبل کے پنشن کیسوں کو ترمیم شدہ فارموں کے تحت دستی طور پر نمٹایا جا سکتا ہے، جبکہ وفات کے بعد بچوں یا دیگر زیر کفالت افراد کے دعوے بھی بدستور مینول طریقہ کار کے تحت نمٹائے جائیں گے۔محکمہ نے ہیومن ریسورس منیجمنٹ سسٹم نوڈل افسراں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے ڈیٹا میں تصحیح اور اپڈیٹ کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔سرکیولر میں واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ کسی بھی لاپرواہی، تاخیر یا کیس کی واپسی کی مکمل ذمہ داری متعلقہ رقومات واگزار اور تقسیم کرنے والے افسران یا پنشن منظور کرنے والے حکام پر عائد ہوگی۔