طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ
جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے کہا کہ پنتھہ چوک سری نگر ، صدر کوٹ بالا بانڈی پورہ اور دیگر متعلقہ مقامات پر روایتی کان کنی کی سرگرمیوں کی بحالی کے طریقہ کار کو جانچنے اور حتمی شکل دینے کیلئے ایک ہائی لیول ملٹی ڈیپارٹمنٹل کمیٹی قائم کی گئی ہے ۔ نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بات قانون ساز حسنین مسعودی کے ایوان میں اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں بتائی ۔ اُنہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اس معاملے پر متعلقہ محکموں کے ساتھ متعدد میٹنگیں منعقد کی ہیں اور کمیٹی جلد از جلد اَپنی سفارشات پیش کرے گی ۔ اُنہوں نے ایوا ن کو مطلع کیا کہ جب کمیٹی اپنی رپورٹ تیار کر لے گی تو اسے متعلقہ ایم ایل اے اراکین کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔ اِس کے بعد ہی اس کی حتمی رپورٹ /تجویز حکومت کو پیش کی جائے گی ۔ نائب وزیرا علیٰ نے رِی ہیبلی ٹیشن کے لئے کہا کہ سابقہ مالکان کو ری ہبیلیٹ کرنے کیلئے محکمہ کو انفرادی کواریوں کو ، جو محکمہ کے لیگیسی ڈیٹا کے مطابق آبائی طور پر قبضہ شدہ علاقوں میں واقع ہیں اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی تصدیق شدہ ہیں ، ملا کر کواری کلسٹر قرار دیا گیا تا کہ انہیں کواری لائسنس کیلئے غور کیا جا سکے ۔ اس کے بعد محکمہ نے پلوامہ ضلع میں لیتھ پورہ ، منڈک پال ، کھریو اور ووین میں 10 کواری بیلٹس کو کواری کلسٹر قرار دیا اور ہدایات دیں کہ منظور شدہ مائننگ پلان ، ماحولیاتی کلیئرنس اور کنسنٹ ٹو اپریٹ متعلقہ اتھارٹیوں سے حاصل کر کے سابقہ کواری مالکان کے حق میں کواری لائسنس کی رسمی منظوری کیلئے پیش کیا جائے جن میں سے 3 کلسٹر واپس لے لئے گئے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ تا ہم اب تک مذکورہ کلسٹرز کے کسی بھی درخواست گذار نے ماحولیاتی کلیئرنس ، کنسنٹ ٹو آپریٹ اور دیگرشراک دار محکموں کی این او سیز متعلقہ اتھارٹیوںسے حاصل نہیں کیں جس کی وجہ سے ان کے حق میں کواری لائسنس کی رسمی منظوری نہیں ہو سکی ۔ اِس کے علاوہ سابقہ کوئری مالکان کی روزی روٹی فراہم کرنے کے لئے لیتھ پورہ، لدو، منڈک پل، کھریو اور ووین میں محکمہ نے وقتاً فوقتاً کوئری سائٹس پر دستیاب ڈھیلے مواد کے نکالنے کے اِجازت نامے جاری کئے ہیں۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی ہلال اکبر لون نے ضمنی سوال اُٹھایا۔










