سرینگر// جنوبی ضلع پلوامہ سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں منہ خور بیماری سے مویشیوں کی موت کے نتیجے میں لوگوں میں کافی تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری سے ابھی تک مختلف علاقوں میں 600سے زیادہ مویشیوں کی موت واقع ہو چکی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پالتو جانوروں میں منہ خور کی بیماری (ایف ایم ڈی) کے پھیلنے سے وادی بر میں وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ کیونکہ وادی میں اب تک لگ بھگ 600 جانور اس بیماری ہلاک ہو چکے ہیں۔نمائندے نے اس ضمن میں پلوامہ سے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میںمویشیوں میںمنہ خوری بیماری کے نتیجے میں لوگوںمیں شدید تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے اور گزشتہ کئی دنوں کے دوران پلوامہ کے مختلف علاقوں میں سو سے زائد مویشیوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع میں ابھی تک 150 سے زائد جانور اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ڈیری فارمنگ سے منسلک افراد کو کافی نقصان ہورہا ہے۔فْٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز سے کسانوں اور ڈیری مالکان میں تشویشاس سلسلہ میں میں ڈیری فارمنگ سے منسلک افراد نے بتایا کہ محکمہ انیمل ہسبنڈری کی نااہلی کی وجہ سے ان لوگوں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے کئی سکیم متعارف کی گئی ہے جن میں ڈیری فارمنگ بھی ہے تاکہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد کو بھی ڈیری فارمنگ سے روزگار فراہم ہو۔ لیکن محمکہ اینیمل ہسبنڈری کی نااہلی کی وجہ سے ان کے روزگار پر برا اثر مرتب ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی وجہ سے وہ اپنے مویشی کھو چکے ہیں جو ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا۔انہوںنے محکمہ انمل ہسبنڈری پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس کی طرف کوئی توجہ فراہم نہیںکی اور نہ ہی بیماری کو روکنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائیں گئے ۔










