اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈِی اِی اِی آر ایس کی طر ف سے منعقدہ مرکزی تقریب میں مشن لائف ، پلاسٹک سے پا ک جنگلات اور نوجوانوں کی قیادت میں حل پر روشنی ڈالی گئی
اونتی پورہ//محکمہ ماحولیات، ماحولیاتی تحفظ اور ریموٹ سنسنگ (ڈِی اِی اِی آر ایس) نے اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) کے اِشتراک سے’ عالمی یومِ ماحولیات 2025 ‘منایا۔ تقریب کا اِنعقاد اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) اونتی پورہ کیمپس میں ہوا جہاں اقوامِ متحدہ کے تھیم ’’پلاسٹک آلودگی کا خاتمہ‘‘ پر زور دیا گیا۔زائد چار سو شرکأجن میں جنگلات کے سینئر اَفسران، فیکلٹی ممبران، محققین، طلباء، این جی اوز اور مختلف محکموں کے نمائندے شامل تھے ،نے اس سلوگن کو عملی شکل دینے کا عزم ظاہر کیا۔ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ (پی سی سی ایف) اور ہیڈ آف فارسٹ فورس سریش کمار گپتا نے تقریب کی صدارت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ صرف اِنفرادی رویوں میں انقلابی تبدیلی ہی پلاسٹک کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اُنہوں نے محکمہ جنگلات کی ’’پلاسٹک فری جموں و کشمیر‘‘ مہم اور مشن لائف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بین المحکمانہ صفائی مہمات کے ذریعے جنگلات، وائلڈ لائف اور حساس ماحولیاتی علاقوں سے ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک ہٹایا جا رہا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ہم جتنے تھیلے لینے سے انکار کرتے ہیں اور جتنی بوتلیں دوبارہ اِستعمال کرتے ہیں، اتنا ہی ہم ایک کاربن نیوٹرل اور صاف جموں و کشمیر کے قریب پہنچتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ’’ذمہ دار صارفیت کے سفیر‘‘ بنیں۔چیف وائلڈ لائف وارڈن سریویش رائے نے حیاتیاتی تنوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محفوظ علاقوں میں نمایاں جانوروں کی آبادی میں استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے، لیکن ندیوں، جھیلوں اور آبی ذخائر میں پلاسٹک کا ملبہ آبی حیات اور پرندوں کے لئے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہا ہے۔ اُنہوں نے طلباء ، مقامی اَفراد اور سیاحتی شعبے سے اپیل کی کہ وہ آبی ذخائر کو اَپنائیں اور انہیں صاف رکھنے کے لئے باقاعدہ صفائی مہمات چلائیں۔چیئرمین جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی واسو یادو نے تسلیم کیا کہ پلاسٹک نے زِندگی کو آسان ضرور بنایا ہے لیکن اسے ختم کرنا فوری ممکن نہیں۔ اُنہوں نے کہا،’’حقیقی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ہم فضلے کی مکمل سورس سیگریگیشن کو یقینی بنائیں تاکہ پلاسٹک کو ری سائیکل یا محفوظ طریقے سے کو۔پروسیس کیا جا سکے۔‘‘منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے فارسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ڈائریکٹر سونیش بُکسی نے بھوپال کی مثال دی، جو مستقل کمیونٹی ایکشن کے ذریعے بھارت کے صاف ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’یوتھ اَنرجی جو ایک بار سمارٹ پالیسی اور شہری فخر کے ذریعے چلائی جاتی ہے، ہماری شہری درجہ بندی کو اتنی ہی تیزی سے بدل سکتی ہے۔‘‘ ڈین اکیڈمک افیئرز آئی یو ایس ٹی پروفیسر اے ایچ مون نے یونیورسٹی کی دیرپا ترقی کے منصوبے کا ذکر کیا جس میں 50 میگا واٹ کا سولر پارک اور پورے کیمپس میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی شامل ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’یونیورسٹی کو دیرپا طرزِ زِندگی کی تجربہ گاہ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔‘‘رجسٹرار ڈاکٹر مقصودی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یونیورسٹی کی گرین انیش ٹیو نے کیمپس میں پلاسٹک کے استعمال کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے اور اسے باضابطہ طور پر پلاسٹک فری زون قرار دے دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹرڈِی اِی اِی آر ایس راکیش کمار نے بتایا کہ یونین ٹیریٹری میں پلاسٹک ویسٹ پر سخت ریگولیٹری نظام عملایا گیا ہے۔ 120 مائیکرون سے کم کیری بیگزاور 50 مائیکرون سے کم والی پلاسٹک شیٹس کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد ہے۔ خلاف ورزی پر جرمانہ 50,000 روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ تاہم اُنہوں نے خبردار کیا کہ ’’قانون سازی اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتی، اصل محاذ رویوں کی تبدیلی ہے۔‘‘تقریب میںپی سی سی ایف ،ایچ او ایف ایف نے ڈِی اِی اِی آر ایس کی تیار کردہ تین سائنسی رپورٹوںکی رسم رونمائی اَنجام دی۔ اِس موقعہ پر پلاسٹک آلودگی پر ایک مختصردستاویزی فلم بھی جاری کی گئی۔ تقریب کے دوران ڈِی اِی اِی آر ایس کی طرف سے منعقدہ مقابلوں کے فاتحین کو انعامات دئیے گئے۔ اِختتام پرآئی یو ایس ٹی کے ڈرامہ کلب نے ایک پُراثر سکٹ پیش کیا جس میں ایک پلاسٹک بوتل کی دکان سے ندی اور آخرکار انسانی جسم تک پہنچنے کی کہانی کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔










