سرینگر //ادھمپور جموںجیل میں3برسوں سے قید خاوند کی سرینگر سینٹرل جیل میں منتقلی کیلئے خاتون نے 3سالہ بچی کو لیکر پریس کالونی لالچوک میں احتجاج کیا۔ کے این ایس کے مطابق بٹہ مالو کی رہائشی صبا اپنی 3سالہ بچی کو لیکر سنیچر کو پریس کالونی لالچوک میں پہنچ گئی اور روتے بلکتے ہوئے احتجاج کیا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مذکورہ خاتون نے کہا کہ اس کا شوہر عرفان احمد میر ساکن ترال پلوامہ کو 3سال قبل نامعلوم وجوہات کی بنا کر گرفتار کیا گیا اوراسے ادھمپور جیل منتقل کیاگیا۔ مذکورہ خاتون نے زاروقطار روتے ہوئے کہاکہ خاوند کے جیل جانے کے بعد اُس پر مصائب و مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں اور اسے سسرال والوںنے بھی گھر سے نکالا ہے۔ صبا کاکہنا ہے کہ وہ اس وقت میکے میں بوڑھے والدین کے رحم وکرم پر ہے ۔ مذکورہ خاتون نے کہاکہ خاوند کی گرفتاری کے بعد اس کا کوئی سہارا نہیں ہے اور اس کی مالی حالت اس قدر خستہ ہے کہ گزشتہ3برسوں کے دوران وہ ایک بار بھی ادھمپور جیل جاکر شوہر سے ملاقات نہیں کرسکی۔ مذکورہ خاتون نے کہاکہ ’جب اس کے شوہر کو گرفتار کیاگیااُس وقت میری بیٹی 1ماہ کی تھی اور آج تک اسے والد نے نہیں دیکھا ہے‘۔ صبا نے کہا کہ رشتہ داروں نے بھی دروازے بند کئے اور کوئی ان کی مدد نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی راستہ دکھاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ ’مجھے اس بات کی بھی وجہ معلوم نہیں کہ اس کے خاوند کو کس جرم میں گرفتار کیاگیا اور نہ ہی متعلقہ پولیس تھانہ نے اس بارے کوئی جانکاری فراہم کی‘۔مذکورہ خاتون نے کہاکہ اس کا خاوند اپنے کنبہ کا پیٹ پالنے کیلئے کام کاج کرتا تھا تاہم اس کی گرفتاری کے بعد وہ مشکلات کے بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ’میری حالت گداگر سے بھی بدتر ہوگئی ہے اور میں معصوم بیٹی کولیکر مصیبت میں پڑ گئی ہوں‘‘۔ انہوںنے روتے ہوئے کہاکہ ’میرا مدعا و مقصد یہ ہے کہ خاوند کو آزاد کیا جائے اور اگر اسے اگر رہا نہیں کیاجاتا ہے تو کم سے کم اسے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کیاجائے تاکہ میں اسے 3سال بعد ملاقات کرسکوں اور وہ اپنی 3سالہ بیٹی کو بھی دیکھ سکے‘۔ مذکورہ خاتون نے حکومت اعلیٰ حکام اور آئی جی پی کشمیر اپیل کی کہ اس کی مانگ کو پورا کرکے خاوند کو سرینگر سینٹرل جیل منتقل کیاجائے۔










