پبلک اَنڈر ٹیکنگ کمیٹی نے جے کے پی ڈِی سی ایل کے آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا

پبلک اَنڈر ٹیکنگ کمیٹی نے جے کے پی ڈِی سی ایل کے آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا

کمیٹی نے ذمہ داری کا تعین کرنے اور مرتکب اَفسران کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا

سری نگر// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اَنڈر ٹیکنگ کمیٹی (سی او پی یو) کی اسمبلی کمپلیکس میں میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے پی ڈِی سی ایل) کے آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ کی صدارت چیئرمین علی محمد ساگر نے کی اور اِس میں کمیٹی کے ارکان سیف اللہ میر، علی محمد ڈار، میر محمد فیاض، رنبیر سنگھ پٹھانیہ، ڈاکٹر بشیر احمد شاہ (ویری)، شوکت حسین گنائی، سیف الدین بٹ اور تنویر صادق نے شرکت کی۔میٹنگ میں پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل، پرنسپل سیکرٹری پی ڈِی ڈِی، سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کے پی ڈِی سی ایل، جے پی ڈِی سی ایل اور جے کے پی ڈِی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹروں، ڈائریکٹر جنرل اکاؤنٹس اینڈ ٹریجریز، ڈائریکٹر جنرل ڈیولپمنٹ ایکس پنڈیچر ڈویژن۔I، ڈائریکٹر فائنانس پی ڈِی ڈِی، مختلف وِنگوں کے چیف انجینئروں اور محکمہ بجلی و دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ کمیٹی نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی طرف سے جے کے پی ڈِی سی ایل کے کام کاج میں نشاندہی کی گئی مختلف بے ضابطگیوں اور آڈِٹ اعتراضات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ دورانِ گفتگو چیئرمین نے ادارے کے کاموں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ کسی بھی قسم کی غفلت پر ذمہ داری طے کی جائے اور متعلقہ قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
چیئرمین نے بتایا کہ کئی منصوبے طویل مدت سے جاری ہیں حالانکہ ڈی پی آر میں ان کی تکمیل کی مدت طے کی گئی تھی۔ اُنہوں نے افسران پر زور دیا کہ ڈی پی آرمقررہ اصولوں کے مطابق تیار کی جائیں تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی رُکاوٹ یا تاخیر نہ ہو۔اُنہوں نے کمیٹی ارکان سے بھی کہا کہ ایسے فورموں کے ذریعے مناسب اِصلاحی اقدامات پر زور دے کر متعلقہ محکموں کو جوابدہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اداروں کو مالی نظم و ضبط اور عملی کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے اور عوامی فلاح میں کردار ادا کرنا چاہیے۔چیئرمین نے پرنسپل سیکرٹری پی ڈِی ڈِی کو ہدایت دی کہ ایک ماہ کے اندر ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے جس میں آڈٹ اعتراضات پر کئے گئے اقدامات اور مستقبل میں ایسی غلطیوں کی روکتھام کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار کی تفصیل ہو۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جن افسران کی کوتاہی یا بے ضابطگی ثابت ہو گی، ان کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔کمیٹی کے ارکان نے مختلف منصوبوں کی تکمیل میں وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی کوتاہیوں، ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں اور تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے غیر میٹرڈ اور دور دراز علاقوں میں صارفین کو موصول ہونے والے زائد بلوں کا مسئلہ بھی اٹھایا اور عوامی مطالبے کے پیش نظر فوری اصلاح کا مطالبہ کیا۔