پاکستان کا جوہری توانائی سے جڑے خدشات اور جوہری ٹیکنالوجی کے درمیان توازن پر زور

پاکستان نے جوہری توانائی سے متعلق نئے خطرات سے نمٹنے اور تمام اقوام کے لیے نئی جوہری ٹیکنالوجی کے راستے کھلے رکھنے کے درمیان توازن رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔مانیٹرنگ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بحث کے دوران پاکستان نے عالمی برادری کو یاد دہانی کروائی کہ جوہری ہتھیار اور ان کی ترسیل کا نظام اب الگ تھلگ نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں دیگر جدید ہتھیاروں کے نظام کے ساتھ موجود ہے۔
پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ’لہٰذا جوہری تخفیف اسلحہ پر بات چیت اب مختلف ہتھیاروں کے نظام اور ریاستوں کی سلامتی پر ان کے اجتماعی اثرات سے کے درمیان باہمی مضبوط تعلق سے غیر متعلق نہیں رہ سکتی‘۔سفیر خلیل ہاشمی جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مباحثے میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ممکنہ دوہری نوعیت کو ترقی پذیر ممالک تک ان کی رسائی روکنے یا محدود کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے‘۔
سفیر خلیل ہاشمی نے عالمی سلامتی کے زیادہ پائیدار اور مساوی ڈھانچے کی تعمیر نو کی ضرورت پر بھی زور دیا جو روایتی توازن میں کمی کو بھی دور کر سکے۔
جوہری ہتھیاروں پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بحث 14 اکتوبر کو شروع ہوئی تھی، اس سے ایک روز قبل ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستان اور اس کے جوہری اثاثوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس دیے تھے۔جو بائیڈن کے ریمارکس نے پاکستان میں شدید ردعمل کو جنم دیا جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی، پاکستان کی اعلیٰ فوجی کمانڈ نے بھی ایک غیر معمولی بیان جاری کیا جس میں دنیا کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عالمی معیارات کے مطابق مکمل محفوظ ہیں۔بعدازاں وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر متعدد بیانات جاری کیے جس میں اسلام آباد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ امریکا کو پاکستان کی جوہری اثاثوں کے دفاع کی صلاحیت پر اعتماد ہے اور وہ عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے۔