یہ راستہ ہمیں جہنم کی آگ کی طرف لے جا رہا ہے// ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر// یو این ایس// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پاکستان میں ایک مسجد کے اندر خودکش دھماکے کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسانیت اور دین سے کس قدر دوری اختیار کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جو ہمیں جہنم کی آگ کی طرف لے جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے یہ بات اتوار کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے پانپورقصبے میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ وہ وہاں محمد ریاض حمدانی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرنے گئے تھے۔ انہوں نے کہا،’’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اب مسجدوں کے اندر بھی دھماکے ہو رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کتنے دور ہو چکے ہیں۔ ہم اس راستے پر چل رہے ہیں جو ہمیں جہنم کی طرف لے جائے گا۔این سی صدر نے کہا کہ آج پوری مسلم دنیا بدامنی، انتشار اور تشدد کی لپیٹ میں ہے اور کہیں بھی امن و سکون نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف انسانیت بلکہ اسلام کے حقیقی پیغام کو بھی مجروح کرتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جانا چاہیے، تو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔واضح رہے کہ جمعہ کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے تارلی میں واقع حضرت خدیجہ الکبریٰ مسجد میں ایک 32 سالہ خودکش حملہ آور نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب نمازی ہفتہ وار نماز جمعہ ادا کر رہے تھے۔ ابتدائی طور پر 31 افراد کی ہلاکت اور 169 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم بعد میں شدید زخمیوں کے دم توڑنے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 36 ہو گئی۔حکام کے مطابق اس ہولناک حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ اِن پاکستان نے قبول کی ہے، جو دہشت گرد تنظیم داعش کی ایک ذیلی شاخ بتائی جاتی ہے۔










