ایک طرف پاکستان ہر وہ کوشش کر رہا ہے، جس سے امریکہ کو خوش کیا جا سکے۔ دوسری طرف امریکہ کسی نہ کسی طرح سے پاکستان کو اس کی ’حیثیت‘ ضرور بتا دیتا ہے۔ تازہ معاملہ سفری ہدایت سے متعلق ہے، جو پاکستان کو شرمندہ کرنے والا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے شہریوں کو خاص ہدایت دی ہے کہ وہ پاکستان جانے سے قبل 2 مرتبہ ضرور سوچ لیں۔ امریکہ کا یہ رخ سرخیوں میں اس لیے آ گیا ہے، کیونکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے پاکستان خود کو امریکہ کا بہت بڑا قریبی ظاہر کرنے میں مصروف تھا۔
قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کے برسراقتدار ہونے کے بعد 2 مرتبہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ شہباز شریف بھی اکثر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ٹرمپ کی ’ہاں میں ہاں‘ ملاتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں غزہ کے لیے بنائے گئے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں بھی پاکستان نے شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی، حالانکہ ملک میں ہی شہباز حکومت کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اب امریکہ کے ذریعہ سفری ہدایات (ٹریول ایڈوائزری) میں کی گئی ترمیم کے بعد پاکستان کو ’لیول-3‘ زمرہ میں رکھ دیا گیا ہے۔ اس زمرہ میں ان ممالک کو رکھا جاتا ہے جہاں پر دہشت گردی اور سیکورٹی سے متعلق خطرہ ہوتا ہے۔ گزشتہ 26جنوری کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سیکورٹی کے لحاظ سے ’ہائی رِسک‘ پر ہے اور یہاں بغیر الرٹ کے دہشت گردانہ حملے ہو جاتے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ خطرہ بس اسٹینڈ، ہوٹل، مارکیٹ، شاپنگ مال، ملٹری اور سیکورٹی بیس، ایئرپورٹس، ٹرینوں، اسکولوں، اسپتالوں، مذہبی مقامات، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کے آس پاس ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو ’لیول-4‘ زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ اس زمرہ میں وہ علاقے آتے ہیں جہاں جانا ممنوع ہوتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ ’لیول-4‘ والے علاقہ میں بالکل بھی نہ جائیں، کیونکہ یہاں قتل اور اغوا کی کوششیں عام ہیں۔ خاص طور پر حکومت کے افسران کے ساتھ اس طرح کے معاملے پیش آتے رہے ہیں۔ یہ تنبیہ پاکستانی نژاد امریکی شہریوں پر بھی نافذ ہوتی ہے۔










