7.6 شدت کے زلزلے نے پاپوا نیو گنی کو ہلاکر رکھ دیا جس کے باعث عمارتوں کو نقصان پہنچا، لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور کم از کم 5شہری ہلاک جب کہ متعدد شدید زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی خبر کے مطابق زلزلے کے مرکز کے قریب واقع شمالی قصبوں کے رہائشیوں نے صبح کے وقت زلزلے کے شدید جھٹکوں کی اطلاع دی جس سے سڑکوں میں شگاف پڑ گئے اور عمارتوں کی چھتیں اُڑ گئیں۔مقامی رکن پارلیمنٹ کیسی ساوانگ نے بتایا کہ دور دراز پہاڑی دیہات میں کم از کم 2 افراد کی موت ہو گئی ہے جب کہ کم از کم 4 دیگر لوگوں کو تشویشناک حالت میں پرواز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہاں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مکانات دب گئے ہیں اور ایک گاؤں میں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو گئے ہیں۔زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقے میں ذرائع مواصلات بہت محدود، حکومت کے کم وسائل اور چند ہی پکی سڑکیں ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں نقصان کی صورتحال جائزہ لینے اور ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔چھوٹی ایوی ایشن کمپنیاں اور مشنری گروپس کچھ زخمیوں کو علاقے سے ایئر لفٹ کرکے ریسکیو کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ایک شخص کو ریسکیو کرکے واپس جانے کی کوشش کرنے والے منولوس ایوی ایشن کے کارکن نے کہا اس خطے میں، اس موسم کے دوران امدادی کارروائیاں بہت مشکل ہیں، یہ چیلنجنگ ہے۔گوروکا کے مشرقی پہاڑی قصبے میں رہائشیوں نے مقامی یونیورسٹی کی شکستہ دیواروں سے گرنے والی کھڑکیوں کے شیشوں کی تصاویر کھینچیں۔جیس ابین ریزورٹ کے کارکن نے زلزلے کی شدت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت بہت زیادہ تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہر چیز سمندر میں تیر رہی ہے۔زلزلے کے جھٹکے اس کے مرکز سے تقریباً 480 کلومیٹر دور دارالحکومت پورٹ مورسبی تک محسوس کیے گئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کے فوری بعد قریبی ساحلی علاقوں کے لیے سونامی وارننگ جاری کی تھی لیکن بعد میں وارننگ واپس لیتے ہوئے کہا کہ خطرہ گزر چکا ہے۔لیکن اس کے باوجود سمندر کے قریب آباد خوفزدہ مقامی لوگ یہ رپورٹ کرتے ہوئے کہ ساحل پر پانی کی سطح اچانک کافی کم ہوگئی ہے بلند مقامات کی جانب بھاگے۔
’طاقتور زلزلہ’
قومی رہنما جیمز ماراپ نے کہا کہ زلزلہ بہت شدید تھا، انہوں نے لوگوں کو محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ نقصان 2018 کے زلزلے سے کم ہوگا جب کم از کم 126 افراد ہلاک ہوئے تھے۔جیمز ماراپے نے کہا کہ قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ اور جلد از جلد لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور زخمیوں کا پتا لگاکر ان پر توجہ دیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ کی گہرائی 61 کلومیٹر تھی جو کیننٹو شہر سے تقریباً 67 کلومیٹر دور تھا۔پاپوا نیو گنی بحرالکاہل کے ‘رنگ آف فائر’ قرار دیے گئے خطے میں واقع ہے جس کی وجہ سے اس خطے میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کے روز ہی امریکی جیولوجیکل سروے نے بھی پڑوسی ملک انڈونیشیا میں سماٹرا کے مغربی ساحل سے دور مینتاوائی جزائر میں 2 زوردار زلزلوں کی اطلاع دی، تاہم جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔واضح رہے کہ 2004 میں انڈونیشیا کے ساحل پر 9.1 کی شدت کے زلزلہ سونامی کا باعث بنا تھا جس کے باعث پورے خطے میں 2 لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے انڈونیشیا میں تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار افراد بھی شامل تھے۔










