شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد بجلی کی سپلائی کو تیزی سے بحال کیا
جموں//پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ(پی ڈِی ڈِی) نے ایک پریس نوٹ جاری کیا ہے جس میں 25 اور 26 ؍اگست کو جموں خطے میں ہوئیں شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے باعث بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو ہوئے شدید نقصان کے بعد بحالی کے کاموں کا جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ ان بحالی کی کوششوں کو واقعی غیر معمولی ، خاص اور مؤثر بنانے میں محکمہ اور مختلف ریاستی و مرکزی ایجنسیوں جیسے این ایچ پی سی، پی جی سی آئی ایل، این ایچ اے آئی اور پولیس کے درمیان مضبوط ٹیم ورک اور ہم آہنگی کا کلیدی کردار رہا۔پی ڈِی ڈِی نے ان ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تا ل میل کیا جنہوں نے ضرورت کے مطابق بروقت مدد اور لاجسٹک سہولیات فراہم کیں تاکہ تمام متاثرہ اَضلاع میں بحالی کا کام تیز اور بغیر کسی رُکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔اِس کے نتیجے میں محکمہ نے جموںخطے میں بجلی کی فراہمی کو ریکارڈ وقت میں بحال کیا حالاں کہ نقصان اِتنا وسیع تھا کہ کوئی بھی ضلع اس سے محفوظ نہ رہ سکا۔ موسلا دھار بارشوں، دریائے توی اور مقامی نالوں کی طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ نے بالخصوص ٹرانسمیشن اور ڈِسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچایا۔متعدد ٹرانسمیشن ٹاور گر گئے، بنیادیں زیرِ آب آ گئیں اور رِسیونگ سٹیشن پانی میں ڈوب گئے۔ اطلاعات کے مطابق بیشتر فیڈرز بند ہونے کے باعث 26 ؍اگست کو جموں خطے میں بجلی کا لوڈ کم ہو کر صرف 299 میگاواٹ رہ گیا جبکہ معمول کا مطالبہ تقریباً 1,050 میگاواٹ ہوتا ہے۔خراب موسم کی وجہ سے درپیش مشکل چیلنجوں کے باوجود پی ڈِی ڈِی کی بحالی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئیں اور اِنتہائی مشکل حالات میں چوبیس گھنٹے کام کیا۔ محکمہ نے خراب نیٹ ورک المنٹس کو الگ کرکے اور متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی ممکن بنا کر 27 ؍اگست کو شام 7 بجے تک لوڈ 725 میگاواٹ (جو کہ معمول کے لوڈ کا 70 فیصد ہے) تک بحال کر دیا اور 28 ؍اگست کی شام تک 960 میگاواٹ (92 فیصد) بجلی بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ مہم جے کے پی ڈِی سی، جے کے پی ٹی سی ایل اور جے پی ڈِی سی ایل کی قریبی ہم آہنگی سے پرنسپل سیکرٹری پی ڈِی ڈِی ایچ راجیش پرسادکی نگرانی میں چلائی گئی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے بحالی کے کاموں کی پیش رفت کی قریب سے نگرانی کی اور صورتحال سے مسلسل آگاہ رہے۔ ان کی بروقت مداخلت سے مرکزی اِداروں پی ایس یوز سمیت مختلف ایجنسیوں سے درکار وسائل کی فراہمی ممکن ہوئی جس سے نظام کی فوری اور مؤثر بحالی ممکن ہو سکی۔موسلادھار اور شدید بارشوں سے متاثرہ ٹرانسمیشن لائنیں اِنتہائی دشوار گزار علاقوں، پہاڑی ڈھلوانوں، دریا کے گزرگاہوں اور ناقابل رَسائی علاقوں سے گزر رہی تھیں۔ بارش کے پہلے ہی دن 132 کلو وولٹ لائن کے ساتھ دریائے توی کراسنگ پر موجود کئی ٹرانسمیشن ٹاور ایک کے بعد ایک گر گئے۔ اِسی طرح کشتواڑ کو بجلی فراہم کرنے والی لائن اور 132 کلو وولٹ ہیرانگر۔بٹل۔مانوال لائن بھی منہدم ہو گئی۔ 220 کلو وولٹ بارن۔کشن پورٹرانسمیشن لائن کو بھی شدید نقصان پہنچا جس سے راجوری، پونچھ، رِیاسی اور جموں اَضلاع کی بجلی متاثر ہوئی۔ایم ڈِی جے کے پی ٹی سی ایل راحیلہ وانی اور اُن کی ٹیم نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے خصوصی اَقدامات اور جدید حل اَپنائے جیسے ہیرانگر۔بٹل۔مانوال لائن کے منہدم شدہ ٹاور کو ایمرجنسی ریسٹوریشن سسٹم (اِی آر ایس) سے تبدیل کیا گیا جو ایک خاص قسم کا فوری نصب کیا جانے والا ٹاور ہوتا ہے۔ پی جی سی آئی ایل کی مدد سے صرف چوبیس گھنٹوں میں بجلی بحال کی گئی جبکہ روایتی ٹاوروںکو کھڑا کرنے میں مہینے لگ جاتے ہیں۔
نگروٹہ کے قریب تباہ شدہ220 کلو وولٹ بارن۔کشن پور ٹرانسمیشن لائن پر کنڈکٹروںکو لگانے کے لئے کرینوں اور خاص آلات اِستعمال کئے گئے۔ کشتواڑ لائن کا تباہ شدہ ٹاور بھی پہاڑی علاقے ڈوڈہ میں ریکارڈ وقت میں بحال کیا گیا، جہاں سڑکیں تباہ ہو چکی تھیں، وہاں مواد کو سر پر اُٹھا کر لے جانا پڑا۔بحالی ٹیموں نے سخت موسمی حالات اور محدود رابطوںکے باوجود اچوبیس گھنٹے کام کر تے ہوئے نتھک محنت اورشاندار لگن کا مظاہرہ کیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹرپی جی سی آئی ایل ترون بجاج اور این ایچ پی سی کے رام سوروپ نے مکمل تکنیکی اور لاجسٹک معاونت فراہم کی ،جو ان اِنتہائی مشکل حالات میں بجلی کی بحالی کے بڑے کام کو پورا کرنے میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں۔ڈِسٹری بیوشن سیکٹر کی صورتحال اور بھی سنگین تھی جہاں 1,349 میں سے صرف 364 فیڈر 26 ؍اگست کی شام تک فعال تھے۔ خطے کے 49,000 میں سے تقریباً 19,000 ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر متاثر ہوئے جبکہ سینکڑوں کھمبے اور تاریں بھی تباہ ہو گئیں جوکہ تاریخ کے بدترین بلیک آؤٹ میں سے ایک تھا۔منیجنگ ڈائریکٹر جے پی ڈِی سی ایل جی پی سنگھ اور اُن کی ٹیم نے فوری طور پر اہم تنصیبات جیسے دفاعی مراکز، جل شکتی، ایمز، جی ایم سی جموں اور دیگر بڑے ہسپتالوں میں بجلی کی بحالی کو اَپنی اوّلین ترجیح بنایا اور زیادہ تر تنصیبات کو پہلے ہی دن بحال کر دیا۔یہ بحالی کا کام دن رات جاری رہا اور مسلسل نگرانی، اَفرادی قوت و مشینری کی فوری تعیناتی، قلیل مدتی اَقدامات اور جدید حکمت عملی کی بدولت مکمل بحالی مقررہ وقت سے پہلے ہی ممکن ہو سکی۔شدید بارشوں نے بجلی کی پیداوار کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ پانی کے گھروں میں سیلاب، رسائی کی سڑکوں کو نقصان اور دریائے چناب میں سِلٹ کی زیادتی کی وجہ سے صوبہ جموں میں جے کے ایس پی ڈِی سی کے تمام ہائیڈرو منصوبے بند ہو گئے تھے۔ اِن چیلنجوںکے باوجود 900 میگاواٹ بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کو صرف 60 گھنٹوں میں دوبارہ چالو کیا گیا۔ دریائے چناب میں 26 اگست کو سِلٹ کی زیادتی کے باعث بند کئے جانے کے بعد ایم ڈِی جے کے ایس پی ڈی سی راہل یادو اور اُن کی ٹیم نے مسلسل کام کرتے ہوئے 28 ؍اگست کی شام تک پہلا یونٹ بحال کر دیا اور 29 ؍اگست تک تمام یونٹس دوبارہ ہم آہنگ کئے گئے۔ اِس کے علاوہ اَپ سٹریم و ڈاؤن سٹریم پروجیکٹوں، صوبائی و ضلعی اِنتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا گیا تاکہ سیلاب کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور بروقت الرٹ جاری کئے جا سکیں۔اگرچہ عارضی بحالی مکمل ہو چکی ہے لیکن تباہ شدہ اِنفراسٹرکچر جیسے ٹاوروں، کھمبے اور سب سٹیشن کے آلات کی مستقل مرمت میں کافی وقت ،حتیٰ کہ کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ محکمہ نے اِس مقصد کے لئے پہلے ہی ایک جائزہ مکمل کر لیا ہے اور مکمل منصوبہ بندی کی جا چکی ہے جو موسم کی بہتری کے ساتھ مرحلہ وار عمل میں لائی جائے گی۔پی ڈِی ڈِی عملے کی غیر معمولی کوششوں اور مرکزی ایجنسیوں کی بروقت مدد نے جموں خطے کے لئے ایک ناممکن کام کو کامیابی کے ساتھ ممکن بنادیا۔










