جموں وکشمیر او رلداخ ہائی کورٹ نے 20؍ دسمبر کو کام کا دِن قرار دیا

پاسپورٹ بنیادی حق، شہری کو ’ضرورت‘ ثابت کرنے کی شرط نہیں: ہائی کورٹ

عدالت نے کہا، بیرونِ ملک سفر ذاتی آزادی کا حصہ ہے، صرف قانون کے مطابق ہی حق محدود ہو سکتا ہے

سرینگر//وی او آئی//جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ رکھنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس کے لیے کسی شہری کو بیرونِ ملک سفر کی “ضرورت” یا “مجبوری” ثابت کرنے کی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ فیصلہ جسٹس سنجے دھرنے ایک درخواست پر سنایا جس میں انسدادِ بدعنوانی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس نے ایک ملزم کی پاسپورٹ تجدید کے لیے این او سی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ ہر شہری کو پاسپورٹ رکھنے کا حق حاصل ہے اور یہ حق صرف قانون کے مطابق ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے تاریخی مقدمہ منیکا گاندھی بمقابلہ یونین آف انڈیاکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی آزادی میں بیرونِ ملک سفر کا حق بھی شامل ہے اور کسی شہری کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ قانون اجازت نہ دے۔ عدالت نے کہا کہ پاسپورٹ یا این او سی حاصل کرنے کے لیے شہری کو عدالت یا پاسپورٹ اتھارٹی کے سامنے بیرونِ ملک سفر کی کوئی “ضرورت” ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دستاویزی ثبوت مانگنے کی شرط قانون کے منافی قرار دی گئی۔ درخواست گزار ظہور احمد پہلوان بدعنوانی کے ایک مقدمے میں زیرِ سماعت ہیں۔ انہیں پہلے حج کے لیے ایک سالہ پاسپورٹ این او سی کے ذریعے دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے پانچ سالہ تجدید کے لیے دوبارہ این او سی مانگا، لیکن ٹرائل کورٹ نے یہ کہہ کر درخواست مسترد کر دی کہ پرانا این او سی 2026 تک کارگر ہے اور بیرونِ ملک سفر کی کاروباری ضرورت کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ ہائی کورٹ نے دونوں بنیادوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو پاسپورٹ کی تجدید کے لیے پہلے سے درخواست دینے کا حق ہے اور اسے کاروباری ضرورت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے کہا کہ فوجداری عدالت کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ ملزم بیرونِ ملک سفر کے بعد مقدمے کی سماعت کے لیے دستیاب رہے گا یا نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ “این او سی پر غور کرتے وقت کوئی اور عنصر فیصلہ کو متاثر نہیں کرنا چاہیے” اور درخواست منظور کر لی۔ درخواست گزار کی نمائندگی ایڈووکیٹ ساقب شبیرنے کی جبکہ حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ الیاس لاوے پیش ہوئے۔