سرینگر//جمعرات کی صبح عائد کردہ بندشوں اور پابندیوں میں مزید نرمی کی گئی ، لیکن شہر سری نگراورکئی قصبہ جات کے بازاروں اورحساس مقامات پرپولیس و فورسز کے دستے تعینات رہے۔اس دوران سنڈے مارکیٹ بھی سج گئے اور چھاپڑی وگلی فروش بھی اتوار کواپنی روزی روٹی چلانے کیلئے گھروں سے نکلے ۔اِدھر کئی علاقوں میں بشمول شہرخاص کی کچھ ایک سڑکوں اورحیدر پورہ میں مرحوم سیدعلی گیلانی کی رہائش گاہ کی طرف جانے والے کوچے پر رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔کشمیروادی میں عوامی نقل وحمل اورنجی وچھوٹی مسافرگاڑیوں بشمول آٹو رکھشائوںکی آمدورفت جاری رہی ،جبکہ شہروقصبہ جات میں گلی وچھاپڑی فروشوںنے اپنی ریڈیاں اورپٹریاں لگاکر مارکیٹ کوسجایا ۔سری نگرکوشمال وجنوب مختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں کیساتھ ساتھ بین ضلعی سڑکوں پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی جبکہ کہیں کہیں دکانات بھی کھلے نظرآئے ۔ شہر سری نگراورکئی قصبہ جات کے بازاروں اورحساس مقامات پرپولیس و فورسز کے دستے تعینات رہے۔سیکورٹی حکام نے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے سری نگر شہر اور کچھ دیگر مقامات پر پولیس و فورسز کی تعیناتی برقراررکھی گئی ہے۔اس دوران سنیچرکے مقابلے میں اتوار کو پوری وادی میں ٹریفک کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے ، لیکن زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے دور رہی۔سری نگر شہر کے کچھ علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگر حصوں میں بھی کچھ دکانیں کھل گئیں۔اُدھر شمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیرکے9اضلاع بشمول بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ ،بڈگام ،گاندربل ،اننت ناگ ،کولگام ،پلوامہ اورشوپیان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سبھی اضلاع کے قصبہ جات میں بھی عوامی نقل وحمل کیساتھ ساتھ نجی وچھوٹی مسافرگاڑیوں بشمول آٹو رکھشائوںکی آمدورفت جاری رہی جبکہ گلی وچھاپڑی فروشوںنے اپنی ریڈیاں اورپٹریاں لگاکر مارکیٹ کوسجایا۔سیکورٹی حکام نے کہاکہ کشمیرمیں صورتحال نارمل اور کنٹرول میں ہے۔پولیس نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔پولیس نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میڈیا سروس سمیت کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ، جو پاکستان سے چل رہے ہیں ، شرپسندوں کو امن خراب کرنے کے لئے اکسانے کیلئے جعلی خبریں اور ویڈیوز پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ کچھ مقامی میڈیا پرسنز اور چینلز جعلی خبریں پھیلاتے ہوئے پائے گئے ہیں اور پولیس ان کا مشاہدہ کر رہی ہے ، شواہد کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ 2دن تک معطل رہنے کے بعد جمعہ کی رات تمام نجی ٹیلی کمپنیوںکی جانب سے فراہم کی جانے والی موبائل فون وائس کالنگ اور فکسڈ لائن انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ، تاہم موبائل انٹرنیٹ سروس پراتوار کے روز بھی پابندی عائد رہی۔










