پائیداراور نتیجہ پر مبنی ہند وپاک مذاکراتی عمل ناگزیر: ڈاکٹر فاروق

سرینگر // نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ اگر بھارتی حکومت اراضی کے بجائے کشمیری لوگوں کو چاہتے ہیں تو نئی دہلی کو دفعہ 370کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہئے۔ 5اگست 2021کودفعہ 370اور 35 Aکی منسوخی کے2سال مکمل ہونے پر اپنی رہائشگاہ گپکار میں ایک قومی خبررساں ادارے کو دئے گئے ایک مفصل انٹرویو میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ان باتوں کو مستردکردیا کہ دفعہ370کی منسوخی کے 2برس بعد بھی تبدیل کی گئی حیثیت پرکشمیریوں میں ابتدائی طور پر جو غم و غصہ پایاجارہاتھا،وہ کم ہورہاہے، ہم نے ریاست میںبہت سارے المیے دیکھے ہیں، ایک بڑی بات جو کشمیریوں میں ہیں ، وہ یہ ہے کہ ہم جو اندر محسوس کرتے ہیں، وہ ہم زبان پر نہیں لاتے، نفرت بہت زیادہ ہے جو تم نوٹس کرسکتے ہو، لیکن وہ آپ کو یہ نہیں بتائینگے ، لیکن اگر آپ امریکی، برطانوی یا اور کوئی صحافی جو بھارتی نہ ہو، وہ آپ کے بجائے اُنہیں زیادہ بتائینگے۔ 86سالہ ڈاکٹر فاروق، جو مارچ میں کووڈ19سے متاثر ہونے سے کمزور ہوا تھالیکن ریاستی معاملات کے بارے میں وہ تلخ تجربات محسوس کرتے ہیں لیکن اس کی آواز پختہ اور متحرک تھی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا نئی دہلی میں کوئی اور حکومت نریندر مودی کی طرف سے کئے گئے فیصلے (دفعہ 370کی منسوخی)کو واپس لے گی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا’’برطانیہ ، جس نے 2صدیوں تک حکومت کی تھی، نے کبھی یہ سوچا تھا کہ ایک جواہر لال نہرو لال قلعہ پر ترنگا لہرائینگے اور بھگت سنگھ نے کیا کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اُس کی قربانی رنگ لائیگی اور جن لوگوںپر لال قلعہ میں مقدمہ چلایاگیا تھا، کیا انہوںنے کبھی سوچا تھا؟ نہیں، لیکن وہاں فریاد تھی کہ ہم ایک آزاد ملک دیکھے گے ، جو ہم سب کیلئے ہوگا ۔۔۔یہ ایک دن یہاں (کشمیر) میںبھی ہوگا، ہوسکتا ہے کہ میں یہ دیکھنے کیلئے نہیں ہوں گالیکن یہ ہوگا‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ’’اگر تم (بھارتی حکومت) اراضی چاہتے ہو، جو چاہو کرو، لیکن اگر آپ کشمیر کے لوگوں کو چاہتے ہیں تو اس پر آپ کو ازسرنو سوچنا ہوگا‘‘۔ دو گھنٹوں تک دئے گئے انٹرویودیتے ہوئے فاروق عبداللہ نئی حقیقتوں سے اتفاق کرنے کی جدوجہد کرتے دکھائی دیئے ۔آنکھوں میں نمی اور آواز میں غصہ کے دوران ڈاکٹر فاروق کو جب یہ بات یاد آگئی کہ 5اگست 2019کو دفعہ370اور35A کی منسوخی اور ریاست کی دو حصوں میں تقسیم کرنے کے ایک دن قبل انہیں نظربند رکھاگیا تھا اور PSAعائد کیاگیا اور 7مہینوں بعد اسے رہا کیاگیا۔کے این ایس کے مطابق انہوںنے کہاکہ ’’کیا میں بھارت مخالف ہوں؟ کیا میں پاکستانی ہوں؟ کیا میں چینی ہوں؟ یہ ایک المیہ ہے، میں بی جے پی کا نوکر نہیں ہوں، میں عوام کا خادم ہوں‘‘۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’ہم نے ایک ایسی صورتحال کو جنم دیا ہے جو بھارت نواز ہیں، انہیں زیادہ یا کم نفرت کی جاتی ہے، دہلی حقائق سننا نہیں چاہتی، جب میں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم سے ملاقات کی تو میں نے انہیں بے تکلفی سے کہاکہ آپ کوہم پراعتماد نہیں اور نہ ہمیں دہلی پر اعتماد ہے‘۔ ڈاکٹر فاروق نے ماضی کی تاریخ پر توڑے گئے وعدوں پر بات کرتے ہوئے کہاکہ نہرو کا رائے شماری کا وعدہ، خودمختاری کے مطالبے پر پی وی نرسیمہاراو کا ’’آسمان حد ہے‘ کا وعدہ ، اٹل بہاری واجپائی کے ’’کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت‘‘ اورتب مودی آئے اور سب کچھ مٹا دیا، ہم صرف زندہ ہیں، ہم آزاد لوگ نہیں ہے، ہم غلام ہیں، جو کچھ ہے ہمیہی ہے‘‘۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’’بھارت میں کوئی بھی سچائی سننا نہیں چاہتا کیونکہ وہ سچ سننا نہیں چاہتے، ہم کیا ہے؟ کیا آپ نے ملک میں کہیں اور اتنی تعداد میں فوج دیکھی ہے جو یہاں دیکھی ہے ، ہر ایک کونے میں ؟ کیا آپ نے ملک میں کہیں اور فوج جھنڈے گاڑتی ہے۔۔۔ کیایہ آزاد ریاست ہے؟ کیا ہم بھارت کے آزاد لوگ ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا ‘‘۔ وزیرا عظم مودی کے کشمیر میں سیاسی خاندانوں نے لوٹ مچانے کے تمسخر کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ ’’مودی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں، کب آپ نے انہیں سچ بولتے ہوئے دیکھا ہے؟ آج جب اپنے ہی وزراء ، عدالت عظمیٰ کے جج ، قریب 40صحافیوں، حتی کہ جو ان کے دوست ہیں، کی جاسوسی کرنے کیلئے اسرائیلی مشینوں کا استعمال کیالیکن وہ پھر بھی جھوٹ بول رہے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایسا نہیں کیا ہے، اب بتائے سچ کدھر ہے‘‘؟انہوںنے کہاکہ ’اگر3خاندانوں نے کشمیر کو لوٹا ہے ، تو میرے پاس بہت سارے محل ہونے چاہئے، میں زمین میں سب سے امیر انسان ہوتا، کیا میں ہوں، کیا میں امبانی یا اڈانی کے برابر ہوں؟ تو یہاں سے کہاں جاتا؟ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’جب تک وہ اپنی سوچ تبدیل نہیں کرتے، جب تک وہ اس بات کا ادراک نہیںکرتے کہ بھارت خالی ایک مذہب کیلئے نہیں ہے، جب تک ہم تنوع کا احترام کرتے رہینگے ، بھارت قائم رہے گا، جس دن ہم نے تنوع سے چھیڑ چھاڑ کی، بھارت ختم ہوجائیگا، ہاں گائے کے نام پر سیاست کرنے والے رہینگے، باقی جائینگے،ایک وقت آئیگا ، میں یہ دیکھنے کیلئے شاید نہ رہوں لیکن میرے بچے اور ان کے بچے یہ دیکھے گے‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’’لوگوں کے دل جیتنے کے وعدے کہاں ہیں؟ کیا آپ لوگوں کے دل جبر ، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، مقامی پولیس سے جیت لینا چاہتے ہیں؟ کہاں(کشمیرمیں)ایسی آزادی ہے، جو آپ دہلی یا بھارت کی کسی اور جگہ میں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو’ مستقبل کے لائحہ عمل میں بے یقینی پائی جارہی ہے اورانتخابات میں حصہ لینا؟کیا جموںوکشمیر کو ریاستی درجہ کی بحالی سے قبل چنائو منعقد کئے گئے، اس بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے، میںآپ کو کچھ بھی نہیں بتاسکتا کہ اُس وقت کیا ہونے والا ہے، یہ دور کی کوڑی ہے، پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ حدبندی کمیشن کیا کرتاہے؟جموںوکشمیر کے سابق وزیرا علیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو اس بات کا یقین ہے کہ ’’کشمیر بھارت، پاکستان اور چین کیلئے ایک ٹیڑی کھیر ہمیشہ رہے گا، ہم اٹک گئے ہیں کیونکہ حکومت آگے بڑھنا نہیں چاہتی، انہیں پاکستان کے ساتھ راستہ تلاش کرنا ہوگا، ہم ان کی زمین واپس نہیں لے سکتے جو انہوںنے حاصل کی ے اور وہ جموں وکشمیر کی نہیں لے سکتے‘‘۔ کے این ایس کے مطابق ڈاکٹر فاروق نے یاد دلاتے ہوئے کہاکہ جب واجپائی پاکستان جارہے تھے تو انہوںنے رابطہ کرکے میری تجاویز طلب کیں، میں نے کہاکہ’’براہ کرم انہیں یہ بتایا جائے کہ وہ اپنا حصہ اپنے پاس رکھیں اور ہم اپنا حصہ اپنے پاس رکھے گے، ہم حد متارکہ کو آسان بنائیں اور آر پار لوگوں کی آواجاہی اور تجارت کو سہل بنائے‘‘۔ْ 1990سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حد متارکہ کو مستقل سرحد بنانے کی وکالت کرتے آئے ہیں اور انہیں ابھی بھی یہ یقین ہے کہ اس کا فقط یہی ایک حل ہے۔ کیا اور کوئی حل ہے۔۔ ایک جوہری جنگ؟ کیا آپ یہی چاہتے ہے؟ 70برسوں سے ہم غریب ہیں اور آپ چاہتے ہیںکہ ہم جہنم میں جائیں؟ ہمیں کوئی حل نکالنا ہوگا، اگر ایسا نہیں کرتے ، خدا کیلئے جائو اور دیکھو افغانستان میں کیا ہورہاہے، جائو دیکھو ا س وقت افغانستان کدھر ہے؟ مسلمانوں کیخلاف نفرت پر ڈاکٹر فاروق نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم چینی یا پاکستانی یا برطانوی مسلمان نہیں ہے، ہم بھارتی مسلمان ہے، آپ دیکھوانہوںنے ملک میں کیسی نفرت کی فضا بنائی ہے، کیا آپ یہ سوچتے نہیں کہ اس کا مسلم اکثریتی ریاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ میں 86برس کا ہوں، میں نے کبھی بھی بھارت کو اس طرح جاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے‘‘ْ(مشمولات دی پرنٹ)