بھارت اور امریکہ کے درمیان دوستی اور تجارتی تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق
سرینگر//ٹوکیو میں وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ باہمی گفتگو کی، دونوں رہنماؤں نے بھارت اور امریکہ تعلقات اور دوستی کو اور زیادہ بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعظم اور بائیڈن نے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی مراسم کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کرلیا جبکہ وزیر اعظم نے امریکی صدر کو بھارت کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے آج ٹوکیو میں امریکہ کے صدر جوبائیڈن کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے وسیع معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور بھارت- امریکہ دوستی کو مستحکم کرنے کے طریقوں پر غور کیا۔ اپنے بیان میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کی ساجھیداری صحیح معنوں میں اعتماد کی ساجھیداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات اور اقدار نے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے اس بندھن کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے بھارت بحرالکاہل کے بارے میں مشترکہ مفادات کے تحفظ سے متعلق کام کرنے کے سلسلے میں باہمی سطح پر اور ہم خیال ملکوں کے ساتھ ایک جیسے نظریات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی بات چیت سے اس مثبت رفتار میں مزید تیزی آئے گی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عوام سے عوام کے درمیان رابطے اور مضبوط اقتصادی تعاون، بھارت – امریکہ ساجھیداری کو منفرد بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن یہ گنجائش اور صلاحیتوں سے کم ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بھارت امریکہ انویسٹمنٹ انیشیٹیوایگریمنٹ یعنی سرمایہ کاری ترغیبی سمجھوتے کی تکمیل سے دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری میں ٹھوس اضافہ ہوگا۔ امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے خوشی کا اظہار کیا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان امریکی ترقیاتی فینانس کارپوریشن کے بارے میں اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ دونوں ممالک بھارت امریکہ ویکسین ایکشن پروگرام کی تجدید کر رہے ہیں۔اسی دوران جاپان کی راجدھانی ٹوکیو میں سکارڈ لیڈروں کی سربراہ میٹنگ شروع ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی، امریکی صدر جوبائیڈن،آسٹریلیا کے وزیراعظم انٹونی البس اور جاپان کے وزیراعظم کشادہ فامیوکے ہمراہ میٹنگ میں شرکت کی۔سربراہ میٹنگ میں اپنے افتتاحی بیان میں جناب مودی نے کہا کہ سکارڈ کے ایک مختصر عرصے میں دنیا کے سامنے اپنے لئے ایک اہم مقام بنایاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج سکارڈ کا دائرہ کافی وسیع ہوگیاہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سکارڈ ملکوں کا آپسی اعتماد اور عزم جمہوری قوتوں کو ایک نئی توانائی اور جوش فراہم کررہا ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ Quad کے سطح پر آپسی تعاون کے ساتھ ایک آزاد، کھلے اور سب کی شمولیت والے بھارت بحرالکاہل خطے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے اسے تمام Quad ملکوں کا مشترکہ ہدف قرار دیا۔جناب مودی نے آسٹریلیا کے نومنتخب وزیراعظمAnthony Albanese کو بھی مبارکباد دی اور نیک خواہشات پیش کیں۔نریندر مودی جاپان کے وزیراعظم Fumio Kishida کی دعوت پر جاپان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ کل جناب مودی نے جاپان کی کاروباری برادری اور جاپان میں مقیم بھارتی برادری کے افراد سے ملاقات کی تھی۔دریں اثناء ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ اپنی شراکت داری اور دوستی کو عالمی امن و استحکام اور انسانیت کی بہبود کے لیے ”اچھائی کی طاقت” قرار دیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں امریکی صدر جوزف آر بائیڈن کے ساتھ دو طرفہ ملاقات میں اس خیال کا اظہار کیا۔ امریکہ، آسٹریلیا، ہندوستان اور جاپان کے چار فریقی اتحاد کواڈ کی چوتھی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے یہاں آئے مودی نے کواڈ سمٹ کے بعد مسٹر بائیڈن سے الگ سے ملاقات کی۔ ہندوستانی وفد میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، خارجہ سکریٹری ونے موہن کواترا اور دیگر حکام شامل تھے۔ جب کہ امریکی وفد میں سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی جے بلنکن، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان شامل تھے۔اس میٹنگ میں دونوں رہنماوں نے ہندوستان-امریکہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا اور اسے مزید جامع اور گہرا بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماوں نے ہندوستانی بحرالکاہل کے علاقے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ نے روس یوکرین جنگ کے بارے میں ہندوستان کو اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ میٹنگ میں اپنے ابتدائی کلمات میں مسٹر مودی نے مسٹر بائیڈن سے ملاقات پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ سے مل کر ہمیشہ بہت خوشی ہوتی ہے۔ آج ہم نے ایک اور مثبت اور نتیجہ خیز کواڈ سمٹ میں بھی ایک ساتھ شرکت کی۔ انہوں نے ہندوستان-امریکہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو حقیقی معنوں میں اعتماد اور بھروسے کی شراکت قرار دیا اور کہا کہ ہماری مشترکہ اقدار اور سیکورٹی سمیت کئی شعبوں میں ہمارے مشترکہ مفادات نے اعتماد اور بھروسے کے اس بندھن کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام سے عوام کے رابطے اور قریبی اقتصادی تعلقات بھی ہماری شراکت کو منفرد بناتے ہیں۔مسٹر بائیڈن نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے رہنما دنیا کے اس تبدیلی کے وقت میں جمع ہو رہے ہیں – ہم ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یوکرین پر روس کے وحشیانہ اور غیر معقول حملے کے نتائج اور پورے عالمی نظام پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ امریکہ اور ہندستان ان منفی اثرات کو کم کرنے کے اقدامات پر مل کر کام کرتے رہیں گے۔










