Demands of tourist transporters should be heeded immediately

ٹورسٹ ٹرانسپورٹروں کے مطالبات پر فوری طور کان دھرا جائے

پہلگام سانحے کے بعد ٹورسٹ ٹرانسپورٹروں کی بحالی پر زور، حکومت سے مالی پیکیج کا مطالبہ

سرینگر/// پہلگام سانحے کے بعد کشمیر کے سیاحتی شعبے میں سرگرم ٹورسٹ ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جن کا ازالہ تاحال نہیں ہو سکا ہے۔ اس پس منظر میں ٹورسٹ ٹرانسپورٹروں نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کی ایک تفصیلی فہرست رکھی ہے، جس میں مالی معاونت، پالیسی اقدامات، اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر پابندی جیسے نکات شامل ہیں۔پیراڈائز ٹورسٹ میکسی کیب آپریٹرز ایسوسی ایشن کے بینر تلے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایسوسی ایشن کے صدر سجاد احمد، نائب صدرآصف احمد، جنرل سیکریٹری توصیف احمد، خزانچی عمر امین، کوآرڈینیٹرسمیر رشید اور اکاؤنٹنٹ شاہ عمران نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاحتی شعبے کی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات قابلِ ستائش ہیں، تاہم ٹورسٹ ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی جزو کو مزید توجہ کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں رجسٹرڈ ٹورسٹ ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو باقاعدہ لائسنس، قواعد و ضوابط، اور سیاحوں کے ساتھ شائستہ و محفوظ سلوک کے حوالے سے تربیت یافتہ ہے، لیکن غیر رجسٹرڈ اور نجی گاڑیوں کے ذریعے سیاحوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے نہ صرف ان کے روزگار کو خطرہ لاحق ہے بلکہ سیاحوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی شکایات بھی بڑھ گئی ہیں۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ غیر مجاز اور نجی گاڑیوں کے ٹورسٹ سروسز فراہم کرنے پر مکمل پابندی عائد کرے اور صرف آل انڈیا پرمٹ یافتہ گاڑیوں کو ہییونین ٹیروٹری میں کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہر سے آنے والی نجی گاڑیاں نہ صرف مقامی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ماحولیات پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ پہلگام سانحہ کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کا براہ راست اثر ٹورسٹ ٹرانسپورٹ سیکٹر پر پڑا ہے۔ بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی قسطیں ادا کرنا بھی ممکن نہیں رہا، جس کی وجہ سے کئی گاڑیاں این پی اے (نان پرفارمنگ ایسٹس) کی فہرست میں شامل ہو رہی ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک خصوصی مالی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ ہزاروں ٹورسٹ ٹرانسپورٹرز دوبارہ اپنا کاروبار سنبھال سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے وادی کے تمام ٹورسٹ ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی کہ وہ ایسوسی ایشن کے ساتھ جڑ کر اجتماعی پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کریں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے کہا کہ یہ صرف مطالبات نہیں بلکہ ایک ایمرجنسی نوعیت کی اپیل ہے، جس کا مقصد ریاست کی سیاحتی معیشت کو بچانا اور ہزاروں خاندانوں کو بے روزگاری کے دہانے سے واپس لانا ہے۔