ٹنل کے آ ر پار شدید گرمی کی لہر سے لوگوں مشکلات میںمبتلا

سرینگر//امسال وادی کشمیر میں مسلسل خراب موسمی صورتحال کے بیچ گزشتہ کچھ دنوں سے گرمی کی لہر میںکافی اضافہ ہو گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ بدھ کو درجہ حرارت ایک مرتبہ پھر 34ڈگری کے نزدیک پہنچ گیا ۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں مستقبل قریب میں بارشوں ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور آئندہ ہفتے تک گرمیوںمیں اضافہ کی پیشگوئی کی ہے ۔ادھر گرمی کی تپش سے بچنے کیلئے شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ وادی کے شمال و جنوب میں نوجوان مختلف ندی نالوں اور دریائوں میں چھلانگیں لگا کر اپنے آپ کو ٹھنڈا کر کے راحت محسوس کی جس دورا ن سینکڑوں نوجوانوں نے شہر آفاق جھیل ڈل کے مختلف حصوں پر تیراکی کا مزہ لیا۔سی این آئی کے مطابق جہاں ماہ جون میں درجہ حرارت میں اضافہ کے نتیجے میں پائی جانے والی شدید گرمی کی وجہ سے اہل وادی کیلئے رات دن تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں وہیں گرمی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک کڑی کے تحت سرینگر میں بدھ کو گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا ۔ بدھ کو دن بھر شدید گرمی کی لہر جاری رہی جس دوران درجہ حرارت33.8ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں بدھ کو دن کا درجہ حرارت 33.8ڈگری ریکارڈ کیا گیاجبکہ اس کے ساتھ ساتھ قاضی گنڈ میں دن کا درجہ حرارت 32.5ڈگری ریکار ڈ کیا گیا ۔ جبکہ اس کے علاوہ کپواڑہ میں بھی دن کا درجہ حرارت 34.2ڈگری سے اوپر رہا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں بھی گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور بدھ کو جموں میں بھی 42.2ڈگری سیلشس ریکار ڈ کیا گیا ۔ محکمہ کے مطابق وادی کشمیر میں آئندہ چند دونوں میں موسم میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہے اور مجموعی طور پر موسم خشک ہی رہیگا ۔تاہم انہوں نے اس بات کے امکانات ظاہر کئے ہیں کہ گرمی کی شدت میں کمی آسکتی ہے ۔اسی دوران شدت گرمی کی تپیش سے بچنے کیلئے نوجوانوں کی طرف سے ندی نالوں اور دیائوں کا رخ کیا جاتا ہے اور گرمی سے راحت پانے کیلئے وہ تیراکی کا بھی مزہ لیں رہے ہیں ۔