ٹرینی ڈاکٹر کے قتل کے بعد بھارتی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

بھارت میں خاتون ٹرینی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے بعد ملک بھر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے 24 گھنٹے کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی ہے، تاہم ایمرجنسی کیسز کے لیے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خاتون ٹرینی ڈاکٹر سے ریپ اور قتل کے باعث لاکھوں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے، جبکہ میڈیکل سروسز بھی معطل کردی گئی ہیں، ہسپتالوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالجز میں موجود ملازمین اور اسٹاف کو ایمرجنسی سروسز کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔جبکہ حکومت کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے وفد سے بات چیت کی گئی ہے، جس میں ڈاکٹرز کو عوامی مفاد میں ذمہ داریاں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔واضح رہے 9 اگست کو کولکتہ کے میڈیکل کالج میں 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کو ریپ کرکے قتل کیاگیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے شدیداحتجاج شروع کیا، اس سے قبل 2012 میں نئی کی دلی سڑک پر چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کو بھی ریپ کے بعد قتل کیا تھا۔بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ترجمان سنجیو سنگھ یادیو کا رائٹرز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ تمام جونیئر ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، اس کا مطلب ہے کہ 90 فیصد ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں۔آر جی کار میڈیکل کالج میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کی بھارتی نفری 17 اگست کو تعینات تھی، جبکہ ہسپتال کا احاطہ ویران پڑا تھا۔وزیر اعلیٰ وسطی بنگال ممتا بینرجی نے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ ہر صورت ملزمان کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔17 اگست کو کولکتہ کے متعدد نجی کلینیکس اور ڈائگناسٹک سینٹرز بند رہے، نجی پیڈیاٹریشن ڈاکٹر سندیپ ساہا نے رائٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ ایمرجنسی کے علاوہ وہ کسی مریض کا معائنہ نہیں کریں گے۔جبکہ اتر پردیش کے شہر لکھنؤ، گجرات کے شہر احمدآباد، آسام کے گوہاٹی اور تامل ناڈو کے چنئی سمیت کئی شہروں میں ہسپتالوں اور کلینیکس میں ہڑتال جاری ہے، جو کہ تاریخ میں سے بڑی ہڑتال مانی جا رہی ہے۔احتجاج کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں، تاہم کچھ مریض ایسے تھے، جنہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ احتجاج کے باعث وہ طبی امداد حاصل نہیں کر پائیں گے۔