editorial

ٹریفک جام پر قابو پانامشکل

شہر سرینگر کے مختلف علاقوں میں شدید ٹریفک جام کی وجہ سے جھلستی گرمی میں لوگوں کو شددی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ محکمہ ٹریفک کے اہلکار جھلسادینے والی دھوپ میں اپنے فرائض انجام دینے کے باوجود ٹریفک جام پر قابو پانے میں ناکام ہورہے ہیں ۔شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر مرکزی جگہوں پر آجاتوار کے روز ٹریفک جام کے بدترین مناظر دیکھے گئے جس کی وجہ سے گاڑیوں میں درماندہ لوگوں کو شدید زہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہر سرینگر کے جہانگیر چوک، بٹہ مالو آورن کراسنگ کے علاوہ ڈلگیٹ ، اور امیراکدل سے لیکر مہاراجہ بازار تک آج ٹریفک جام کے سخت مناظر دیکھنے کو ملے جبکہ بمنہ بائی پاس کراسنگ پر بھی گھنٹوں ٹریفک جام رہا جس کے نتیجے میں اس جھلسادینے والی گرمی میں گاڑیوں میں لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا ۔سب سے زیادہ بدترین ٹریفک جام ٹورسٹ رسپشن سنٹر سے ہوتے ہوے زیرو برج راجباغ تک دکھائی دیاجہاں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹی نجی ومسافر گاڑیوں کے علاوہ موٹرسائیکل اور آٹورکھشا لمبی لمبی قطاروں میں کھچوے کی چال چلتے دکھائی دئے ۔ ٹریفک کے بے ہنگم ہجوم کی وجہ سے پید ل چلنے والے لوگوں کو بھی شدید دشواریاں پیش آرہی تھیں ۔ اس کے علاوہ ٹریفک جام میں پھنسی ایمبولینسوں کو بھی آگے جانے کیلئے جگہ نہیں مل پارہی تھی جو ایمبولنسوں میں موجود مریضوں کیلئے باعث پریشانی بنا۔ ادھر اس جھلسادینے والی گرمیں میں مختلف جگہوں پر محکمہ ٹریفک کے اہلکار و افسران ننگے دھوپ میں اپنے فرائض انجام دیتے دیکھائی دے رہے تھے تاہم وہ بھی ٹریفک جام پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں ۔ اس ضمن میں محکمہ ٹریفک کے ایک افسر نے کہا کہ لوگ اگر صبر و تحمل سے کام لیکر اپنی لائنوں پر گاڑیاں چلاتے تو ٹریفک جام نہیں ہوتا کیوں کہ جب نجی گاڑی والے اور آٹو رکھشاوالے ایک دوسرے پر سبقت لنے کی کوشش کرتے ہیں اور اورٹیک کرتے ہیں تو دوسری جانب سے آنے والے ٹریفک کی نقل و حمل میں رُکاوٹ پیدا ہوتی ہے اکثر اوقات میں یہی ٹریفک جام کا باعث بنتا ہے ۔ ا س دوران وادی کے دیگر قصبہ جات جن میں اننت ناگ اسلام آباد، سوپور، بارہمولہ ٹاون، کپوارہ مین چوک کے علاوہ قاضی گنڈ سے نمائندوں نے بتایا ہے کہ ان علاقوں میں بھی آج اتوار کو دن بھر ٹریفک جام کی وجہ سے لوگ کئی گھنٹوں گاڑیوں میں درماندہ ہوکے رہ گئے ۔