امریکی طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی‘ایران اپنے دفاع سے غافل نہیں‘ وزیرخارجہ کا بیان
واشنگٹن/یو این آئی// امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معاہدہ کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی اور اسی تناظر میں یورپ میں موجود امریکی طیاروں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے پیش نظر پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر طیاروں نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ خبر رسان ایجنسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کا وقت دیا ہے ۔ دوسری جانب ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنائیں گے ۔ ایران پر ‘محدود’ حملوں کی خبروں پر برطانوی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کیلئے تیار ہے۔میڈیاکے مطابق امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے، منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی نہ ہی امریکہ نے ایسا کوئی مطالبہ کیا، دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا سفارت کاری اور جنگ دونوں کیلئے ہی تیار ہیں۔ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائیگی۔ امریکی حملہ ناصرف ایران بلکہ پورے خطہ اور عالمی برادری کیلئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر اور اراکین کانگریس کو پیغام دیا کہ امریکی حکومتیں ایران کے خلاف تقریباً ہر حربہ آزما چکی ہیں۔ایران کے خلاف جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک، کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔ ہم سے طاقت کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا ایران پر محدود حملے سے متعلق سوچ رہا ہوں۔










