ٹرمپ آرگنائزیشن کے چیف فنانشل آفیسر ایلن ویسلبرگ نے ٹیکس فراڈ کا اعتراف کرلیا اور سابق امریکی صدر کی ریئل اسٹیٹ کمپنی کے آئندہ مجرمانہ مقدمے میں گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کر لی۔مانیٹرنگ کے مطابق مین ہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ نے ایک بیان میں کہا کہ 2005 سے 2021 تک ٹرمپ آرگنائزیشن کے چیف فنانشل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دینے والے 75 سالہ ویسلبرگ نے ٹیکس فراڈ کے 15 الزامات میں جرم قبول کیا۔
بریگ نے کہا کہ ویسلبرگ نے وفاقی، نیو یارک اسٹیٹ اور نیو یارک سٹی ٹیکس حکام کو دھوکا دینے کے لیے شریک مدعا ٹرمپ آرگنائزیشن کے ساتھ 15 سالہ اسکیم میں اپنی شمولیت کا اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس فراڈ کے الزامات پر ٹرمپ آرگنائزیشن کے اکتوبر میں ہونے والے مجرمانہ مقدمے میں گواہی دینے پر ویسلبرگ کو پانچ ماہ قید کی سنائی جائے گی۔
ویسلبرگ نے مستقل طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ذاتی طور پر گواہی دینے سے انکار کر دیا ہے، 76 سالہ ٹرمپ 2017 تک ٹرمپ آرگنائزیشن کے صدر اور مالک کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، جب وہ وائٹ ہاؤس میں تھے۔لیکن ٹرمپ آرگنائزیشن کے سابق ایگزیکٹو اس مقدمے میں گواہی دینے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں اضافی جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بریگ نے کہا کہ ٹیکس فراڈ کے الزامات پر ٹرمپ آرگنائزیشن کے مقدمے میں جج کا انتخاب 24 اکتوبر سے شروع ہونے والا ہے۔
درخواست کے معاہدے میں ویسلبرگ نے رپورٹ نہ کی گئی آمدنی میں 17لاکھ 60ہزار ڈالر پر واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کا اعتراف کیا، انہیں ٹیکس، جرمانے اور سود کی مد میں تقریباً 20لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔
بریگ نے کہا کہ آج ایلن ویسلبرگ نے عدالت میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ٹرمپ آرگنائزیشن میں اپنے عہدے کا استعمال ٹیکس چوری اور خود کو مالا مال کرنے کے لیے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویسلبرگ نے ٹرمپ آرگنائزیشن کو کرائے کے بغیر عالیشان اپارٹمنٹ، مہنگی کاریں، ٹرمپ کے پوتے پوتیوں کے لیے نجی اسکول کی ٹیوشن اور نیا فرنیچر فراہم کیا تھا، یہ سب کچھ ٹیکس ادا کیے بغیر کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ درخواست کا معاہدہ ٹرمپ آرگنائزیشن کو براہ راست مجرمانہ سرگرمیوں کی ایک وسیع رینج میں ملوث کرتا ہے اور ہم ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف عدالت میں اپنا مقدمہ ثابت کرنے کے منتظر ہیں۔










