سرینگر //ٹرانسپورٹ میں اضافہ لوگوں کیلئے خوش آئند اور آرام کا سبب بنا ہوا تھا کیونکہ اس سہولیت سے لوگ دنوں کا سفر گھنٹوں میں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرسکتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی کی سڑکیں کھنڈرات میں تبدیلی ہوئی ہیں یا اتنی چست و تنگ ہیںجس کے نتیجے میں گاڑیوں کے پُرزے خراب ہوتے ہیں ،سفر کے دوران وقت کا زیاں ہوتا ہے اور آئے روز دلدوز حادثات پیش آتے ہیں ۔اسی طرح سے ٹریفک قوانین اور قواعد وضوابط کا کوئی پاس لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے اور اس غیر قانونی وغیر اصولی طریقے کار سے ٹریفک جام اور المناک حادثات کا پیش آنا اب معمول بن گیا ہے ۔جبکہ پٹرولیم مصنوعات بشمول ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ دیکھنے کی خبریں موصولہ ہورہی ہیں اور پیٹرول وڈیزل کی قیمتیں اب آسمان کو چھورہی ہیں ۔نجی گاڑی مالکان یا مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور پریشان حال ہے جہاں 20کلومیٹر پر ۲۔۳ سو روپے خر چ ہوجاتے تھے وہیں ۵سو سے زائد پیسے خرچ ہوجاتے ہیں ۔چند مہینوں کے دو ران تقریباً پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ کیا گیا ۔یہاں تک سنیچرکے نرخ نامے کے مطابق پٹرول کی قیمت102.17اورڈیزل 89.75ہے جبکہ کئی دنوں ان کی قیمتوں میں اور اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اس طرح سے کرایہ بڑھایا گیا اور نجی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کیلئے بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور جن کے پاس آمدنی کے ذرایعے محدود ہیں یا اقتصادی بدحالی کے شکار ہوئے ہیں ۔انہوں نے اپنی گاڑیاں ہی فروخت کی ۔اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بشمول مالکان ،ڈرائیور حضرات نے بتایا کہ یہاں کی بیشتر سڑکوں کی حالت نا گفتہ بہہ ہے جس کی وجہ سے ان کی گاڑیاں ہچکولے کھاتی رہتی ہیں اور ان گاڑیوں کے پُرزے خراب ہوجاتے ہیں اور اب پُرزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے ۔جبکہ ٹیکسز کی بھر مار نے ان حالت نڈھال کردی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان سڑکوں میں ایسے کھڈ اور خندق ہیں کہ گاڑی چلاتے وقت ڈرائیورکے قابو سے باہر جاتی ہے اور ایسے دلدوز والمناک حادثات پیش آتے ہیں جن میں انسانی جانیں تلف ہوجاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ ان کیلئے بارگراںہے کیونکہ آمدنی سے زیادہ پٹرول یا ڈیزل پر خرچہ آتا ہے اور ان کی حالت اس وقت کافی ابتر ہے اور وہ کورونا لاک ڈاون کے نقصان کی بھرپائی نہیں بلکہ مزید قرضوں تلے دب جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں۔ادھر عام لوگوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیور ٹریفک قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کررہے ہیں جس کے نتیجے میں آئے روز حادثات پیش آتے رہتے ہیں جبکہ بدترین ٹریفک جام بھی اسی کا نتیجہ ہے اور مسافر گھنٹوں ہا چوراہوں ،شاہرائوں اور اندرونی سڑکوں میں درماندہ ہوکر رہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کے بعد کرایہ بڑھایا گیا جوعام لوگوں کیلئے مشکل بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا لاک ڈاون کے دوران مالی حالت ابتر ہوئی ہے اور یہ اضافی کرایہ لوگوں کیلئے ایک اور ستم ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو اعتدال پر لایا جائے ،سڑکوں کی تجدیدومرمت کیلئے جنگی پیمانے پراقدامات اٹھائے جائیں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیوروں کو ٹریفک قوانین کی عملی آوری کیلئے پابند بنایا جائے تاکہ حادثات کا نہ تھمنے والاسلسلہ تھم جائے اور ٹریفک جام و اضافی کرایہ سے لوگ نجات حاصل کرسکیں ۔










