سرینگر// پشواڑہ اننت ناگ کے لوگوں نے آج محکمہ پی ایچ ای کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پانی کی شدید قلت ہے اور محکمہ پی ایچ ای نے جو بھی پائپیں آج سے بیس برس قبل نصب کی تھیں آج بھی انہیں پائپوں کے زریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اننت ناگ کے مختلف علاقوں میں کچھ خود غرض عناصر پینے کے صاف پانی کو بے تحاشہ ضائع کررہے ہیں جس کے نتیجے میں دیگر لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہے جبکہ قصبہ کے مختلف علاقوں میں سپلائی پائپیں لیک ہونے سے بھی قیمتی پانی ضائع ہوجاتا ہے جس کیطرف متعلقہ محکمہ توجہ نہیں دے رہا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پشواڑہ اننت ناگ کے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیس برس قبل پی ایچ ای نے چار انچ پانی کی پائپ نصب کی تھی تاہم آبادی میں پچاس فیصدی سے زیادہ اضافہ ہوا ہے تاہم پائپیں اب بھی وہی ہیں۔ اس دوران ایک مقامی شہری نثار احمد بٹ نے کہا کہ پشواڑہ اور آس پاس کے علاقوں میں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے تاہم اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ علاقہ جات کے چند خود غرض عناصر اپنے سبزی کی اراضی ، باغات اور سڑکوں کے علاوہ مختلف فروعی کاموں کیلئے پینے کا صاف پانی استعمال کررہے ہیں جس کے نتیجے میں علاقہ کے دیگر لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہوجاتے ہیں۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی زمین کے سنچائی میں استعمال کرنے سے علاقہ کو پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر انہیں باغات کو پانی دینا ہے سبزی زمین سینچنا ہے تو اس کیلئے ندی نالوںکا پانی استعمال کیا جانا چاہئے۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ قصبہ کے مختلف علاقوں میںپی ایچ ای کی جانب سے نصب کی گئی پانی کی سپلائی لائن کافی جگہوں سے لیک ہے جس کی وجہ سے قیمتی پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ لوگوں نے اس سلسلے میں محکمہ پی ایچ ای کے اعلیٰ زمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ضمن میں مداخلت کرکے پینے کا صاف پانی ضائع ہونے سے بچائیں۔ اس ضمن میں سی این آئی نمایندہ محمد اقبال نے جب پی ایچ ای کے ایگزکیٹیو انجینئر ڈویڑن بجبہاڑہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر کارروائی کریںگے۔










